رسائی کے لنکس

غیر مصدقہ ووٹروں کے نام انتخابی فہرستوں سے خارج


غیر مصدقہ ووٹروں کے نام انتخابی فہرستوں سے خارج

غیر مصدقہ ووٹروں کے نام انتخابی فہرستوں سے خارج

الیکشن کمیشن آف پاکستان کے سیکرٹری اشتیاق احمد خان نے کہا ہے کہ تین کروڑ 70 لاکھ ووٹروں کے ناموں کی تصدیق نا ہونے پر اُنھیں انتخابی فہرستوں سے خارج کر دیا گیا ہے۔

اُنھوں نے یہ بیان پیر کو سپریم کورٹ میں انتخابی فہرستوں میں جعلی ووٹروں کے اندارج سے متعلق مقدمے کی سماعت کے دوران دیا۔

چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی سربراہی میں عدالت عظمیٰ کا تین رکنی بنچ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کی طرف سے دائر کی گئی درخواست کی سماعت کر رہا ہے، جس میں استدعا کی گئی ہے کہ عدالت الیکشن کمیشن کو ہدایت کرے کہ وہ انتخابی فہرستوں میں درج ساڑھے تین کروڑ سے زائد جعلی ووٹروں کے ناموں کو خارج کرکے نئی انتخابی فہرستیں تیار کرے۔

الیکشن کمیشن کے سیکرٹری نے پیر کے روز عدالت کو بتایا کہ تین کروڑ 70 لاکھ غیر مصدقہ ووٹروں کے نام انتخابی فہرستوں سے نکال دیے گئے ہیں جب کہ تین کروڑ 60 لاکھ ایسے افراد کے نام ان فہرستوں میں شامل کیے گئے ہیں جن کی عمر 18 سال یا اس سے زائد ہے اور اعدادوشمار جمع کرنے والا قومی ادارے ’نادرا‘ اُن کے کوائف کا اندراج کر چکا ہے۔

اشتیاق احمد خان کا کہنا تھا کہ نئے ناموں کی شمولیت کے بعد پاکستان میں کل اہل ووٹروں کی تعداد تقریباً آٹھ کروڑ ہو گئی ہے۔

”ان آٹھ کروڑ لوگوں کے کوائف کی تصدیق کا عمل 18 جولائی سے شروع کیا جائے گا، جو 16 اگست تک جاری رہے گا۔ اس دوران ٹیمیں گھر گھر جا کر اپنا کام مکمل کریں گی“۔ اُنھوں نے کہا کہ ان آٹھ کروڑ ووٹروں کی تصدیق کے بعد حتمی فہرستیں آویزاں کی جائیں گی اور اگر کسی کو اعتراض ہوگا تو وہ الیکشن کمیشن میں اپنی شکایات درج کرا سکے گا۔

الیکشن کمیشن کے سیکرٹری نے بتایا کہ اُن کا ادارہ شفاف اور غلطیوں سے پاک انتخابی فہرستوں کی تیاری کے لیے گذشتہ ایک سال سے کام کر رہا ہے اور دسمبر 2011ء تک حتمی انتخابی فہرستیں تیار کر لی جائیں گی۔

عدالت عظمیٰ نے الیکشن کمیشن کو یہ ہدایت بھی کی تھی کہ نئی فہرستیں کمپوٹرائزڈ شناختی کارڈ کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کی جائیں۔

پاکستان میں سیاسی جماعتیں اور انتخابی عمل کی نگرانی کرنے والی غیر سرکاری تنظیموں کا بھی مطالبہ رہا ہے کہ قابل اعتماد انتخابات کے لیے غلطی سے پاک انتخابی فہرستیں ناگزیر ہیں۔

XS
SM
MD
LG