رسائی کے لنکس

فوج کی انتخابات میں قیام امن کے لیے تعاون کی یقین دہانی


فائل فوٹو

فائل فوٹو

الیشکن کمیشن کے عہدیدار نے کہا کہ بلوچستان، خیبر پختون نخواہ اور قبائلی علاقوں کے علاوہ کراچی میں انتخابات کے دوران امن و امان کے قیام کے لیے خصوصی انتظامات کرنا ہوں گے۔

پاکستان کی موجودہ منتخب اسمبلی 16 مارچ کو اپنی مدت پوری کر رہی ہے اور مئی میں عام انتخابات متوقع ہیں جن کے لیے نا صرف تمام سیاسی جماعتیں زور شور سے اپنی تیاریوں میں مصروف ہیں بلکہ آزاد و شفاف انتخابات کو یقینی بنانے کے لیے تمام متعلقہ سرکاری اداروں کے عہدیدار بھی مسلسل مشاورت کر رہے ہیں۔

الیکشن کمیشن آف پاکستان جس کی نگرانی میں انتخابات ہونے ہیں وہ اپنی تیاریوں کو حتمی شکل دینے میں مصروف ہے۔ جمعہ کو کمیشن کے سیکرٹری اشتیاق احمد خان نے پاکستانی فوج کے صدر دفتر میں ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز سے ملاقات کی۔

کمیشن کے ایڈیشنل سیکرٹری افضل خان نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ ایسا ماحول قائم کرنے کی کوشش کی جا رہی کہ انتخابات کے دن تمام اہل ووٹر اپنا حق رائے دہی استعمال کرنے کے لیے بغیر کسی خوف کے پولنگ اسٹیشن تک جا سکیں۔

اُنھوں نے کہا کہ سیکرٹری الیکشن کمیشن نے سلامتی سے متعلق تحفظات پر ہی عسکری کمانڈر سے ملاقات کی اور فوج نے انھیں ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔

’’الیکشن 2013ء کے لیے سب سے بڑا چیلنج سکیورٹی کا ہی ہے، اُسی سلسلے میں سیکرٹری الیکشن کمیشن کی ملاقات ہوئی ڈی جی ایم او کے ساتھ اور بریف کیا کہ اسی ہزار جو ہمارے پولنگ اسٹیشن ہیں وہاں پر الیکشن ہو گا تو انھوں نے یقین دہانی کی کہ الیکشن کمیشن کے لیے اور انتخابات کے لیے جہاں پر بھی ضرورت ہو گی تو وہ ہماری آواز پر لبیک کہیں گے‘‘۔

اُنھوں نے کہا کہ بلوچستان، خیبر پختون نخواہ اور قبائلی علاقوں کے علاوہ کراچی میں انتخابات کے دوران امن و امان کے قیام کے لیے خصوصی انتظامات کرنا ہوں گے۔

’’یہ ساڑھے آٹھ کروڑ لوگوں کو ایک ہی دن میں ووٹ ڈالنا اور اسی ہزار پولنگ اسٹیشن تو یہ جنگ سے بھی بہت بڑا آپریشن ہے جس میں پاکستان کا تقریباً ہر آدمی اس میں اپنا اپنا کردار ادا کر رہا ہے اور اس طرح ووٹر بھی اپنا کردار ادا کریں گے تو یہ تمام چیزیں صحیح انداز میں مرتب ہوں گی تو انشا اللہ ایک بہترین اتحاد کے لیے یہ راستہ ہموار ہو گا۔‘‘

اُدھر جمعہ کو ہی الیکشن کمیشن نے انتخابات کی نگرانی کے لیے آنے والے مبصرین کے لیے بھی ایک ضابطہ اخلاق جاری کیا ہے۔ کمیشن کی طرف سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق مبصرین پر لازم ہو گا کہ وہ پاکستان کی خودمختاری اور عوام کے بنیادی حقوق اور آزادی کا احترام کریں۔

کمیشن نے کہا کہ مبصرین کو پوری طرح سیاسی غیرجانبداری برقرار رکھتے ہوئے اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ ان کے تمام تجزیے غیرجانبدار ہوں۔
XS
SM
MD
LG