رسائی کے لنکس

الیکشن کمیشن سے دھاندلیوں کی تحقیقات کا مطالبہ


الیکشن کمیشن آف پاکستان

الیکشن کمیشن آف پاکستان

پاکستان مسلم لیگ (ق) کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین اور جمیعت علماء اسلام (ف) کے رہنما مولانا عطا الرحمان نے بھی منگل کو اسلام آباد میں الیکشن کمیشن کے دفتر میں انتخابات میں دھاندلی کی شکایات جمع کرائی ہیں۔

گزشتہ ہفتے ہونے والے انتخابات کے نتائج کو ملک کی بڑی سیاسی جماعتوں کی طرف سے تسلیم کیے جانے کے باوجود کئی امیدواروں کی جانب سے ان کے حلقوں میں مبینہ دھاندلی کے الزامات سامنے آرہے ہیں اور اسی سلسلے میں چند بڑے شہروں میں مختلف جماعتوں کے احتجاجی مظاہروں میں الیکشن کمیشن سے اس کی تحقیقات کا مطالبہ بھی روز پکڑ رہا ہے۔

11 مئی کو ہونے والی مبینہ دھاندلی کی شکایت کرنے والوں میں سابق حکمران جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیٹر اعتزاز احسن بھی ہیں جن کی زوجہ بشریٰ اعتزاز کو شہر لاہور سے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے امیدوار کے ہاتھوں بری طرح شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ یہ شکست نا قابل یقین ہے۔

’’اتنا بڑا فرق تو کہیں نہیں تھا اگر ایسا ہوتا تو ہم چند دن پہلے ہی پسپا ہو جاتے۔ آخری دن تک جو رونق شیر کے کیمپ میں تھی وہی ہمارے کیمپ میں تھی۔ میں یہ سمجھتا ہوں اس کی تحقیقات ہونی چاہئے اور الیکشن کمیشن کو جن حلقوں میں مجموعی طور پر 150000 تک ووٹ پڑے وہاں کے ریٹرننگ افسران کی کاؤنٹنگ کی تصیدق کرنا چاییے۔‘‘

اپنے مدمقابل شیخ روحیل اصغر کے تقریباً ایک لاکھ 20 ہزار ووٹوں کے برعکس بشری اعتزاز نے حلقہ 126 میں صرف 7 ہزار ووٹ حاصل کیے۔ ماضی میں اعتزار احسن خود کئی بار اس حلقے سے انتخابات جیت چکے ہیں۔

انتخابات کی نگرانی کرنے والی غیر سرکاری تنظیم فری اینڈ فیئر الیکشن نیٹ ورک نے بھی اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ 8000 پولنگ اسٹیشنوں کے نتائج کے تجزیے سے معلوم ہوا کہ 49 پولنگ اسٹیشن ایسے تھے جہاں ووٹ ڈالنے کی شرح 100 فیصد سے بھی زائد تھی یعنی رجسٹرڈ ووٹروں کی تعداد سے زائد ووٹ ڈالے گئے۔ تنظیم کے مطابق نوشہرہ سے قومی اسمبلی کے حلقہ 6 میں یہ شرح 271 فیصد رپورٹ کی گئی۔ اس بار ملک بھر میں پولنگ اسٹیشنوں کی تعداد 70 ہزار تھی۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ یہ غیر معمولی شرح چند ایسے حلقوں میں دیکھی گئی جہاں سے بڑے سیاسی رہنما انتخابات جیتے ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف، پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرین، پختون ملی پارٹی اور جمعیت علماء اسلام (ف) کے سربراہان عمران خان، مخدوم امین فہیم، محمود خان اچکزئی اور مولانا فضل الرحمان کے علاوہ ان رہنماؤں میں مسلم لیگ (ن) کے چوہدری نثار علی خان، مسلم لیگ (ق) کے چوہدری پرویز الہی، اور پی ٹی آئی کے شاہ محمود قریشی اور شفقت محمود ہیں۔

پاکستان کا ایک موقر اخبار ڈان اپنے اداریے میں کہتا ہے کہ الیکشن کمیشن کو دھاندلی کے ان الزامات کا نوٹس لیتے ہوئے یہ طے کرنا چاہپیے کہ آیا چند حلقوں میں انتخابات دوبارہ کروانے ضروری ہیں اور اس عمل کو مزید شفاف اور آزادانہ بنانے کے لیے انتظامی اور سکیورٹی کے کیا اقدامات کرنے ہوں گے۔

تاہم اداریے میں اس بات پر زور دیا گیا کہ چند مخصوص حلقوں میں ایسی بے ضابطگیوں اور دھاندلی کے واقعات کسی بھی صورت انتخابی عمل کی ساکھ پر اثر انداز نہیں ہونے چاہیے۔

پاکستان مسلم لیگ (ق) کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین اور جمیعت علماء اسلام (ف) کے رہنما مولانا عطا الرحمان نے بھی منگل کو اسلام آباد میں الیکشن کمیشن کے دفتر میں انتخابات میں دھاندلی کی شکایات جمع کرائی ہیں۔

کمیشن کے حکام سے ملاقات کے بعد صحافیوں سے گفتگو میں جماعت کے سیکرٹری جنرل مشاہد حسین سید کا کہنا تھا۔

’’ہر ایک کے مینڈیٹ کا احترام کرنا ہوگا۔ ملک کو جن مسائل کا سامنا ہے انہیں کوئی ایک جماعت یا شخص یا ادارہ اکیلے نہیں حل کر سکتا۔ سب کو مل جل کو چلنا ہوگا اور ہم جس مفاہتی پالیسی پر پہلے سے چل رہے ہیں اس پر سب کو چلنا ہوگا۔‘‘

غیر ملکی مبصرین نے پاکستان میں ہونے والے انتخابات کو مجموعی طور اطمینان بخش قرار دیتے ہوئے شدت پسندی کے خطرات کے باوجود بڑی تعداد میں ووٹروں اور امیدواروں کی انتخابی عمل میں شرکت کو سراہا ہے۔
XS
SM
MD
LG