رسائی کے لنکس

شدت پسند انتخابات میں رخنہ ڈال سکتے ہیں: سابق گورنر


سابق گورنر خیبر پختونخواہ مسعود کوثر (فائل فوٹو)

سابق گورنر خیبر پختونخواہ مسعود کوثر (فائل فوٹو)

بیرسٹر مسعود کوثر کا کہنا تھا کہ ملک کی سیاسی جماعتوں کا دہشت گردی کے خلاف کسی لائحہ عمل پر متفق نا ہونا اس جنگ کو جیتے میں بڑی رکاوٹ رہی۔

خیبر پختونخواہ کے سابق گورنر بیرسٹر مسعود کوثر کہتے ہیں کہ ملک کے قبائلی علاقوں میں شدت پسندوں کی موجودگی میں صاف، شفاف اور آزادانہ انتخابات کا انعقاد عبوری حکومت اور الیکشن کمیشن کے لئے ایک بہت بڑا چلینج ہوگا۔

وائس آف امریکہ سے منگل کو خصوصی گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ شدت پسند انتخابات کے دوران بالخصوص قبائلی علاقوں میں اپنی کارروائیوں میں اضافہ کرسکتے ہیں۔ ’’ماضی میں بھی شدت پسند انتخابات پر اس طرح اثر انداز ہوئے کہ انہوں نے مقامی انتظامیہ، پولنگ ایجنٹس اور انتخابی افسروں کو علاقوں سے بھگا دیا اور اب تو اس کے امکانات بہت زیادہ ہیں۔‘‘

کالعدم جنگجو گروہ تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان نے گزشتہ روز مقامی ذرائع ابلاغ کو ایک پیغام میں کہا تھا کہ وہ اپنی مذاکرات کی پیش کش واپس لے رہے ہیں۔ شدت پسندوں کے ترجمان نے حکومت اور فوج پر الزام لگایا کہ وہ مذاکرات کے حوالے سے سنجیدہ نہیں۔

بیرسٹر مسعود کوثر کا کہنا تھا کہ ملک کی سیاسی جماعتوں کا دہشت گردی کے خلاف کسی لائحہ عمل پر متفق نا ہونا اس جنگ کو جیتے میں بڑی رکاوٹ رہی۔

’’ملک میں آئین، جہوریت اور عدالتی نظام ہیں۔ کل ہی جوڈیشل کمپلس پر حملہ ہوا تو وہ چیزیں جن میں تبدیلی عوام کی رائے کے بغیر نہیں ہونی چاہیے اسے ایک گروہ طاقت کے زور پر کروانا چاہتا ہے۔ جو لوگ کہتے ہیں کہ ان سے بات ہونی چاہیے تو انہوں نے کیا ان سے بات چیت کی ہے؟‘‘

حال ہی میں اسلام آباد میں ہونے والی کل جماعتی کانفرنس میں سیاسی رہنماؤں نے جمیعت علماء اسلام سے تعلق رکھنے والے قبائلی عمائدین کو طالبان سے مذاکرات کے لیے راہ ہموار کرنے سے متعلق کوششیں کرنے کے اختیارات دیے تھے۔

اس حوالے سے قبائلی جرگہ نے حکومت کے چند عہدیداروں سے ملاقاتیں بھی کیں مگر اب تک ان کی کوششوں کا کوئی خاطر خواہ نتیجہ دکھائی نہیں دیا ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ جمیعت طالبان کے لیے نسبتاً نرم گوشہ رکھتی ہے۔

سابق گورنر خیبر پختونخواہ کا کہنا تھا کہ افغانستان میں قیام امن سے بھی پاکستان کے قبائلی علاقوں کے حالات میں بہتری آئے گی اس لیے ضروری ہے کہ دونوں ہمسایہ ممالک اپنے مفادات کو مد نظر رکھتے ہوئے اس حوالے سے مل کر کوششیں کریں۔

’’افغانستان میں عدم استحکام میں ہمارا بھی ہاتھ رہا اور اب جیسا کرو گے ویسا بھرو گے والا معاملہ چل رہا ہے لیکن اب دونوں کے مفاد میں ہے کہ وہ اس خطے میں استحکام لائیں۔‘‘

پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ قبائلی علاقوں میں جماعتی بنیاد پر انتخابات مئی میں متوقع ہیں تاہم حال ہی میں وہاں سے تعلق رکھنے والے سیاسی جماعتوں کے نمائندوں نے تشویش کا اظہار کیا ہے کہ قبائلی علاقوں میں سیاسی اور انتخابی اصلاحات کا نفاذ مکمل نہیں ہوا اور الیکشن کمیشن بھی انتخابات سے متعلق ان کی گزارشات کو نظر انداز کر رہا ہے۔
XS
SM
MD
LG