رسائی کے لنکس

الیکشن کمیشن کے عہدیدار کے مطابق لوگوں میں ووٹ ڈالنے کے لیے آگاہی مہم میں عالمی امدادی اداروں سے بھی مالی معاونت کا کہا گیا ہے۔

پاکستان میں مئی میں متوقع عام انتخابات میں ووٹ ڈالنے کی ریکارڈ 88 فیصد شرح کے حصول کے لیے الیکشن کمیشن نے عالمی اداروں کی مالی معاونت سے عوامی آگاہی مہم شروع کر دی ہے۔

الیکشن کمیشن کے ایڈ یشنل سیکرٹری محمد افضل خان نے وائس آف امریکہ سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ سال 2008ء کے عام انتخابات میں ووٹ ڈالنے کی شرح 44 فیصد تھی جبکہ الیکشن کمیشن نے 2013ء کے عام انتخابات کے لیے 88 فیصد کا ہدف مقرر کیا ہے۔

’’عوام میں ووٹ ڈالنے کی اہمیت کو اجاگر کرنے کی مہم میں اقوام متحدہ کے ترقیاتی ادارے یو این ڈی پی نے دو لاکھ امریکی ڈالر مختص کیے ہیں اور انٹرنیشنل فاؤنڈیشن آف الیکٹرول ریفارمز(آئی ایف ای آر ) نے بھی مالی معاونت کا وعدہ کیا ہےجبکہ الیکشن کمیشن نے یو ایس ایڈ، یورپی یونین، سیڈا اور دیگر ممالک کے امدادی اداروں کو بھی اس مقصد کے لیے مالی معاونت کی فراہمی کے لیے خطوط لکھے ہیں۔‘‘

افضل خان کے مطابق عالمی اداروں کو لکھے گئے خطوط میں کہا ہے کہ پاکستان دنیا کی چھٹی بڑی جمہوریت ہے اور یہاں ووٹ ڈالنے کی شرح دوگنی کر کے ملک میں جمہوریت کو مستحکم کرنے میں مالی اعانت معاون ثابت ہوگی۔

’’الیکشن کمیشن نے تمام بڑی سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو بھی خطوط لکھے ہیں کہ ووٹ ڈالنے کی شرح میں 100 فیصد اضافے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔‘‘

افضل خان کے بقول الیکشن کمیشن نے وزارت پانی وبجلی اور وزارت پٹرولیم سے بھی بات چیت مکمل کر لی ہے اور عام انتخابات تک بجلی اور گیس کے بلوں کے ذریعے بھی الیکشن کمیشن کا پیغام عوام تک پنہچایا جائے گا۔

’’الیکشن کمیشن ملک بھر میں یونین کونسل کی سطح تک خصوصی پروگراموں کا انعقاد کرے گا جس میں سول سوسائٹی، وکلا، صحافتی تنظیموں اور تمام مکتبہ فکر کے مذہبی رہنماؤں کو مدعو کیا جائے گا تاکہ ان کے ذریعے رائے دہندگان کو ووٹ کی اہمیت سے آگاہ کیا جا سکے۔‘‘ ان کے بقول 300 افراد کو تربیت بھی فراہم کی جارہی ہے جو ملک کے 130 اضلاع میں جا کر وہاں دیگر لوگوں کو ووٹ ڈالنے سے متعلق تربیت فراہم کریں گے۔

افضل خان نے بتایا کہ اس مہم میں حصہ لینے والے ایک ہزار اداروں اور افراد کو چیف الیکشن کمشنر اعلٰیٰ سول ایوارڈ دیں گے۔

دوسری جانب الیکشن کمیشن کے ان اہداف کے حصول کے بارے میں ماہرین تحفظات کا شکار ہیں کیونکہ رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑے صوبے بلوچستان میں امن وامان کی صورتحال ماضی کے مقابلے میں اس وقت زیادہ سنگینی سے دو چار ہے جبکہ ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی میں بھی آئے روز ٹارگٹ کلنگ اور سیاسی کارکنوں کی ہلاکتوں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔
XS
SM
MD
LG