رسائی کے لنکس

پاکستان میں لوڈشیڈنگ کا راج

  • ندیم شاہ

پاکستان میں لوڈشیڈنگ کا راج

پاکستان میں لوڈشیڈنگ کا راج

پاکستان میں مختلف یونیورسٹیوں کے طلبا نے مسلسل لوڈشیڈنگ سے تنگ آکر احتجاج کا انوکھا طریقہ اختیار کر تے ہوے فیس بک پر پیج بنا دیا ہے تاکہ عوامی احتجاج منظم کرنے کے علاوہ حکمرانوں پر بھی دباؤ ڈالا جائے کہ وہ عقل کے ناخن لیں­­-

پاکستان میں اس وقت اگرکوئی چیز نایاب ہے تو وہ بجلی ہے ، شہری علاقے 12-12گھنٹے اور دیہی علاقے 18-18گھنٹے بجلی سے محروم ہیں۔

فیس بک پر پیج بنانیوالے طلبا کی اکثریت کا تعلق انفارمیشن ٹیکنالوجی کی یونیورسٹیوں سے ہے جو کہ وولٹیج میں کمی، غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کی بدولت اپنے کمپیوٹرز بھی نہیں چلا سکتے اور نہ ہی پڑھائی کر سکتے ہیں-

پاکستان کی تاریخ میں تیسری مرتبہ سوشل میڈیا کو ذریعہ احتجاج بنایا جا رہا ہے- پہلی مرتبہ چیف جسٹس افتخار چوہدری کی بحالی کے لئے وکلا تحریک کے دوران- پھر سابق گورنر پنجاب سلیمان تاثیر کے قتل کے خلاف فیس بک کو ذریعہ احتجاج بنایا گیا اور اب تیسری مرتبہ لوڈشیڈنگ سے تنگ آکر طلبا متحرک ہو گئے ہیں-

فیس بک پر لوڈشیڈنگ کے خلاف احتجاج نامی صفحہ پر ایک پیغام میں کہا گیا ہے ”حکمران اور لیڈرز ہوش کریں اور محض سابق حکومتوں کو مورد الزام ٹہرانے کی بجاے حکومت لوڈشیڈنگ کے خاتمہ کے لئے ٹھوس اقدامات اٹھائے۔

ان پیغامات سے ظاہر ہوتا ہے کہ فیس بک کے وزیٹرز اس بات پر حیران ہیں کہ ایک ملک جو کہ ایٹمی طاقت ہے مگر اس کے پاس بجلی نہیں
پاکستان میں عوام اس وقت لوڈشیڈنگ کے علاوہ بجلی کے بلوں میں غیرمعمولی اضافہ کا سامنا کر رہے ہیں ، جبکہ لوگوں کی اکثریت اس قدر بھاری بل ادا کرنے کی استطاعت ہی نہیں رکھتی جسکی وجہ سے زبردست عوامی احتجاج مظاہروں کی توقع کی جا رہی ہے-

سن 2010 مئی کے دوران پنجاب کے مختلف شہروں میں بپھرے ہوئے عوام نے الیکٹرک پاور کمپنیوں کے دفاتر پرہلے بول دئے- انہیں نذرآتش کیا گیا اور سرکاری املاک کو نقصان بھی پہنچایا گیا جسکے جواب میں مختلف شہروں میں ان مظاہرین کے خلاف دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمات درج کئے گئے-

فیس بک کے صفحہ پر ایک اور پیغام میں عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ اپنے بجلی کے بل باقاعدگی سے ادا کریں اور مہنگے بلوں سے بچنے کے لئے بجلی چوری یا رشوت ستانی کے ذریعے واپڈا اہلکاروں کی مدد سے بجلی چوری کرنے سے پرہیز کریں-

ماہرین پاکستان میں ہایئڈروالیکٹرک اور تھرمل پاور جنیریش کی ناکافی صلاحیتوں کو لوڈشیڈنگ کا ذمہ دار قرار دیتے ہیں جس نے سارے ملک میں ڈیمانڈ اور سپلائی کے نظام کو بری طرح متاثر کیا ہے-
کمپیٹیشن کمیشن آف پاکستان کی ایک رپورٹ کے مطابق سن 2011 میں توقع کی جا رہی ہے کہ بجلی کی کھپت 19845 میگاواٹ سے 20785 میگاواٹ جائے گی-
پاکستان الیکٹرک پاور کمپنی (پیپکو) کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان اس وقت 10478 میگاواٹ بجلی پیدا کر رہا ہے جن میں ہائیڈرو،تھرمل،آئی-پی-پیز اور رینٹل پاور پلانٹ شامل ہیں۔
پاکستان میں سالانہ 87 فی صد دریاؤں کا پانی ڈیم نہ ہونے کے سبسب ضائع ہوجاتا ہے۔ واپڈا کی ایک رپورٹ کے مطابق پانی ذخیرہ کرنے کے ذرائع میں اضافہ کے لئے کم از کم دس سال کا عرصہ درکار ہے-

تھرمل بجلی گھر پاکستان میں بجلی پیدا کرنے کا دوسرا بڑا ذریعہ ہیں اور انکا انحصار فرنس آئل اور قدرتی گیس کی فرآہمی پر ہے۔ فرنس آئل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ سے پھران میں اضافہ ہوتا ہے جبکہ ملک میں گیس کی بھی لوڈشیڈنگ ہورہی ہے- سوئی ناردرن گیس کمپنی کے ذرائع کے مطابق ملک میں سوئی گیس کی پیداوار میں 400 مکعب فٹ کمی کا سامنا ہے جسکی وجہ سے گیس لوڈ شیڈنگ ہو رہی ہے۔

سوئی گیس ذرائع کے مطابق ملک میں مجموعی گیس کی پیداوار کا 32.3 فیصد تھرمل بجلی گھر استعمال کرتے ہیں جبکہ صنعتی سیکٹر 19.4 فیصد گیس استعمال کرتا ہے گیس لوڈ منیجمنٹ کیوجہ سے بجلی گھر بجلی پیدا نہیں کر سکتے اور صنعتیں بند-

پاکستان میں کوئلہ کے وسیع ذخائر ہیں جن سے بجلی پیدا کی جاسکتی ہے۔ واپڈا کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان کے پاس 185 ارب ٹن کوئلہ کے ذخائر ہیں، مگر ان میں سے صرف سات فیصد ہی استعمال کیے جاتے ہیں ، جبکہ کوئلے کے18 فیصد ذخائر استعال کرنے کی استعداد پیدا کرنے کے لئے 20 سال کا وقت چاہیے تاکہ انہیں تھرمل بجلی گھروں سے بجلی پیدا کرنے کے لئے استعمال میں لایا جاسکے-

XS
SM
MD
LG