رسائی کے لنکس

پاکستان میں موسم گرما کی آمد سے قبل ہی ملک میں طویل دورانیے کی لوڈ شیڈنگ کے خلاف ملک کے مختلف شہروں خصوصی صنعتی علاقوں میں صارفین کے احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق بجلی کی طلب اور رسد میں فرق ساڑھے پانچ ہزار میگاواٹ سے تجاوز کر گیا ہے جس کی وجہ سے لوڈشیڈنگ کی جا رہی ہے۔

مگر اس کے باوجود بجلی کے نرخوں کا تعین کرنے والے سرکاری ادارے ’نیپرا‘ کی جانب سے بجلی کے قیمت میں 48 فیصد تک اضافے کی منظوری کے اعلان سے صارفین کے احتجاج میں تیزی کے خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ لیکن وزارت پانی و بجلی کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ مجوزہ اضافے کے اطلاق کا فیصلہ ہونا ابھی باقی ہے۔

صارفین کے حقوق کے لیے سرگرم عمل ’دی نیٹ ورک‘ نامی تنظیم کے اعلیٰ عہدیدار ندیم اقبال کہتے ہیں کہ ایسے وقت جب بجلی دستیاب ہی نہیں اس کی قمیتوں میں اضافہ بلاجواز ہے۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ قیمتوں میں اضافے اور اس کے مقاصد کے بارے میں جاننا صارفین کا حق ہے۔

ندیم اقبال

ندیم اقبال

’’ہم نے کئی جگہ دیکھا ہے کہ جب نیپرا نے قیمتیں بڑھائی بھی ہیں تو پولیٹکل موٹیویشن کی وجہ سے حکومت نے ان میں اضافہ نہیں ہونے دیا اور کچھ عرصے تک قیمتوں کو بحال کیے رکھا، جس کا ایک مطلب ہے کہ صارفین اصل حقائق سے لا علم ہیں‘‘۔

حکمران پیپلز پارٹی کے رکن قومی اسمبلی اور قائمہ کمیٹی برائے اقتصادی امور کے چیئرمین ملک عظمت نے بجلی کی قیمتوں میں اضافے کا دفاع کرتے ہوئے وی او اے کو بتایا۔

’’حکومت مجبوری کے تحت کر رہی ہے، حکومت کوئی اس سے خوش نہیں۔ نظام کو چلانے کے لیے مجبوراً بوجھ ڈالنا پڑتا ہے۔ ہمیں بھی بحیثیت پارلیمنٹیرین احساس اور ہماری کوشش ہے کہ ہم جلد سے جلد ایسے ذرائع پیدا کریں کہ چند ماہ کے اندر یہ اضافہ واپس لے کر سستی بجلی فراہم کریں‘‘۔

وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کی زیر صدارت بدھ کو ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں بھی ملک میں توانائی کی صورت کا جائزہ لیا گیا۔ ایک سرکاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ وزیراعظم نے متعلقہ وزارتوں کو ہدایت کی ہے کہ گھریلو اور صنعتی صارفین کی مشکلات کو کم کرنے کے لیے بجلی اور گیس کی لوڈ شیڈنگ کے دورانیے کو کم کرنے کی کوششیں کی جائیں۔

اُدھر عالمی بینک نے بجلی کی پیداوار بڑھانے اور زرعی شعبے کی ترقی کے لیے آسان شرائط پر پاکستان کو ایک ارب نو کروڑ ڈالر قرض دینے کا اعلان کیا ہے اس رقم سے تربیلا ڈیم کا توسیعی منصوبہ مکمل کیا جائے گا جس سے ایک ہزار چار سو میگاواٹ اضافی بجلی حاصل ہو سکے گی۔

پاکستان کو درپیش توانائی کے بحران پر قابو پانے کے لیے امریکہ بھی معاونت کر رہا ہے کہ واشنگٹن کی معاونت گزشتہ دو سالوں میں 1000 میگاواٹ اضافی بجلی قومی گرڈ میں شامل کی گئی ہے جس سے 70 لاکھ پاکستانی صارفین مستفید ہو رہے ہیں۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG