رسائی کے لنکس

وزیر مملکت عابد شیر علی نے کہا کہ بجلی چوری اور مالیاتی بدعنوانی پر قابو پا کر لوڈشیڈنگ کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے کوششیں کی جا رہی ہیں۔

پاکستان کی وفاقی حکومت نے بجلی کے نرخوں میں اضافے کا عندیہ دیا ہے۔

وزارت پانی و بجلی کے وزیر مملکت عابد شیر علی نے ہفتہ کو ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو میں کہا کہ یہ اضافہ رواں ماہ متوقع ہے، تاہم اُنھوں نے یہ نہیں بتایا کہ بجلی کی فی یونٹ قیمت میں کتنا اضافہ کیا جائے گا۔

حکام یہ واضح کر چکے ہیں کہ 200 یونٹ ماہانہ تک بجلی استعمال کرنے والے گھریلو صارفین کے لیے نرخوں میں اضافہ نہیں کیا جائے گا۔

عابد شیر علی نے کہا کہ بجلی چوری اور مالیاتی بدعنوانی پر قابو پا کر لوڈشیڈنگ کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے کوششیں کی جا رہی ہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ بجلی کی ترسیل کے نظام میں بہتری لانے سے لوڈشیڈنگ کے دورانیے میں واضح کمی لائی جا سکتی ہے۔

اُدھر وفاقی وزیراطلاعات پرویز رشید نے میڈیا کے نمائندوں کو بتایا کہ حکومت عام صارفین کو بجلی رعایتی نرخوں پر فراہم کرتی ہے جس سے قومی خزانے پر بوجھ پڑ رہا ہے۔

پاکستان کو درپیش توانائی کے شدید بحران پر قابو پانے کے لیے حکومت کی کوششیں جاری ہیں اور اس ضمن میں رواں ہفتے ہی وزیراعظم نواز شریف کی زیر صدارت وفاق اور چاروں صوبوں پر مشتمل مشترکہ مفادات کونسل نے نئی توانائی پالیسی کی منظوری بھی دی گئی۔

حال ہی میں وزیراعظم نواز شریف کی حکومت نے اقتدار میں آنے کے بعد تیل سے بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں کو واجب الادا زیر گردش قرضوں کی مد میں 480 ارب روپے ادا کیے ہیں۔

تاہم وزیراعظم اور وزارت پانی و بجلی کے حکام یہ واضح کر چکے ہیں کہ اگر سستی بجلی فراہم کی جاتی رہی تو حکومت ایک مرتبہ پھر زیر گردش قرضوں میں پھنس جائے گی۔

اُدھر حال ہی میں اعلان کی گئی توانائی پالیسی میں متبادل ذرائع سے سستی بجلی کے پیداواری یونٹ لگانے کا اعلان کیا گیا ہے تاکہ تیل سے بجلی کے حصول کے مہنگے ذریعے پر انحصار کم سے کم کیا جا سکے۔
XS
SM
MD
LG