رسائی کے لنکس

پاکستان نے 'ای ٹی آئی ایم' کے شدت پسندوں کا خاتمہ کر دیا ہے: وزیر دفاع


فائل فوٹو

فائل فوٹو

دفاعی امور کے سینیئر تجزیہ کار اکرام سہگل نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا پاکستان اور چین کے پاکستان اسٹریٹیجک تعلقات اور چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے کے تناظر میں پاکستان نے ایغور جنگجوؤں کے خلاف بڑی واضح پالیسی اختیار کی ہے۔

پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ ان کے ملک نے چین کے مغربی علاقے سنکیانگ میں مبینہ طور پر سرگرم کالعدم عسکری تنظیم ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ 'ای ٹی آئی ایم' کے ایغور جنگجوؤں کا اپنی سرزمین سے خاتمہ کر دیا ہے۔

تاہم انہوں نے کہا کہ اب بھی چوکس رہنے کی ضرورت ہے تاکہ یہ گروہ دوبارہ منظم نہ ہو سکے۔

خواجہ آصف ان دنوں چین کے دورے پر ہیں جہاں انہوں نے اتوار کو بیجنگ میں ایک سکیورٹی کانفرنس میں شرکت کی۔

اس موقع پر نامہ نگاروں سے گفتگو میں خواجہ آصف نے کہا کہ ان کے خیال میں ان عسکریت پسندوں کی ایک قلیل تعداد پاکستان کے قبائلی علاقوں میں موجود تھی تاہم ان کے بقول ان کو ختم کر دیا گیا ہے یا وہ وہاں سے فرار ہو گئے۔

دفاعی امور کے سینیئر تجزیہ کار اکرام سہگل نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا پاکستان اور چین کے پاکستان اسٹریٹیجک تعلقات اور چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے کے تناظر میں پاکستان نے ایغور جنگجوؤں کے خلاف بڑی واضح پالیسی اختیار کی ہے۔

" اب یہ آپریشن فوج کر رہی ہے اور ان کے لوگ جو فاٹا اور شمالی اور جنوبی وزیرستان میں آئے تھے میرے خیال میں جو ان کا دس سال پہلے اثر و رسوخ تھا وہ ختم ہو گیا ہے اب بھی بچے کھچے ہوں گے لیکن پکڑے جاتے ہیں اور مارے جاتے ہیں لیکن جیسا کہ پہلے ہوتا تھا وہ آتے تھے اور (واپس) چلے جاتے تھے، ایک مستقل سلسلہ تھا وہ اب نہیں ہے"۔

چینی حکام کی طرف سے یہ الزام عائد کیا جاتا رہا ہے کہ اس کے مسلمان اکثریت والے مغربی خود مختار علاقے سنکیانگ میں ای ٹی آئی ایم کے جنگجو تشدد کے واقعات میں ملوث ہیں۔

بتایا جاتا ہے کہ ان واقعات میں گزشتہ کئی سالوں کے دوران سیکڑوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

دوسری طرف انسانی حقوق کی تنظمیوں کا کہنا ہے کہ سنکیانگ کے خطے میں بدامنی کی ایک بڑی وجہ چین کی طرف سے یہاں کی ایغور برادری کے مذہبی اور ثقافتی طرز زندگی سے متعلق روا رکھا جانے والا مبینہ ناروا سلوک ہے۔

بیجنگ اسلام آباد سے مطالبہ کرتا رہا ہے کہ وہ اپنے ہاں ان شدت پسندوں کو ختم کرے۔

پاکستانی فوج نے گزشتہ سال جون میں افغان سرحد سے ملحق قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں ملکی اور غیر ملکی شدت پسندوں کے خلاف ضرب عضب کے نام سے بھر پور سکیورٹی آپریشن شروع کیا۔

فوج کے مطابق اس بلاتفریق آپریشن کے دوران تین ہزار سے زائد ملکی اور غیر ملکی شدت پسندوں کو ہلاک کیا جا چکا ہے اور شمالی وزیرستان کے علاقے کے ایک بڑے حصے کو شدت پسندوں سے پاک کروایا جا چکا ہے اور اب چند ایک مقامات پر چھپے شدت پسندوں کے خاتمے کے لیے کارروائیاں جاری ہیں۔

پاکستان کی اعلیٰ سیاسی اور فوجی قیادت نے اس عزم کا کئی بار اعادہ کیا ہے کہ شدت پسندوں کو ملک میں کہیں بھی دوبارہ منظم نہیں ہونے دیا جائے گا اور ان کے خاتمے تک سیکورٹی آپریشنز جاری رہیں گے۔

XS
SM
MD
LG