رسائی کے لنکس

بچوں سے مشقت کے خاتمے کے لیے نگرانی کے موثر نظام پر زور


فائل فوٹو

فائل فوٹو

پاکستان میں ایک اندازے کے مطابق ایک کروڑ سے زائد بچے مشقت کرنے پر مجبور ہیں جس کی ایک بڑی وجہ معاشی حالات کو بتایا جاتا ہے۔

پاکستان میں اتوار کو دنیا بھر کی طرح بچوں سے مشقت کے خلاف عالمی دن منایا گیا جس کا مقصد مزدور بچوں کی حالت زار کو اجاگر کرتے ہوئے اس ضمن میں بہتر اقدام کرنے کی طرف توجہ دلانا ہے۔

پاکستان میں ایک اندازے کے مطابق ایک کروڑ سے زائد بچے مشقت کرنے پر مجبور ہیں جس کی ایک بڑی وجہ معاشی حالات بتائے جاتے ہیں۔

مشقت کرنے والے بچوں کی ایک بڑی تعداد اینٹوں کے بھٹوں اور چھوٹے کارخانوں میں کام کرتی ہے لیکن ایک قابل ذکر تعداد ورکشاپس کے علاوہ گھروں میں کام کرنے والوں کی بھی ہے۔

حکومت یہ کہتی ہے کہ بچوں سے مشقت کے خاتمے کے لیے اس نے مختلف اقدام کیے ہیں اور ملکی آئین کے مطابق پانچ سے سولہ سال کے ہر بچے کو تعلیم دینا ریاست کے فرائض میں بھی شامل ہے۔

گو کہ ماضی کی نسبت خاص طور پر مختلف صنعتوں میں مزدور بچوں کی تعداد بعض اصلاحات کی وجہ سے کم ہوئی ہے لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ اب بھی بچوں کی ایک قابل ذکر تعداد ایسی ہے جس پر توجہ نہیں دی جا رہی۔

خاص طور پر آئین میں اٹھارہویں ترمیم کے بعد صحت اور تعلیم کا شعبہ صوبوں کو منتقل ہونے کے بعد اس ضمن میں خاطر خواہ پیش رفت نہ ہونے کا تذکرہ کیا جا رہا ہے۔

تاہم آبادی کے لحاظ سے ملک کے سب سے بڑے صوبے پنجاب کی حکومت نے حال ہی میں خاص طور پر اینٹوں کے بھٹوں پر کام کرنے والے بچوں کو کام سے ہٹا کر تعلیم کی طرف راغب کرنے کے لیے وظائف کا اعلان کیا اور حکومتی عہدیداروں کے بقول اس سے مزدور بچوں کے خاندانوں کی معاشی مشکلات کم کرنے میں بھی مدد مل سکے گی۔

بچوں کے تحفظ کے لیے کام کرنے والے ایک سرگرم کارکن زوہیر وحید نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ اب بھی بہت سے بچے ایسے شعبوں میں کام کر رہے ہیں جو خاص طور پر ان کی صحت کے لیے انتہائی نقصان دہ ہیں اور بچوں سے مشقت کے خاتمے کے لیے ترجیحی بنیادوں پر نگرانی کے نظام کو موثر بنانے کی ضرورت ہے۔

دریں اثنا اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خوراک و زراعت اور عالمی ادارہ محنت نے خاص طور پر زرعی شعبے میں بچوں سے مشقت کے معاملے کی طرف توجہ دلانے کے لیے مشترکہ طور پر ایک پروگرام شروع کیا ہے۔

ان اداروں کی جانب سے زرعی شعبے کے لیے پالیسی سازوں اور اس کا نفاذ کرنے والوں سمیت دیگر متعلقہ لوگوں کو اس شعبے اور خصوصاً دیہی علاقوں میں بچوں سے مشقت کے خاتمے کو یقینی بنا کر ان کی فلاح و بہبود کے لیے اقدام کرنے کی تربیت فراہم کی جائے گی۔

XS
SM
MD
LG