رسائی کے لنکس

آئندہ دہائی میں روزگار کے لیے لوگ پاکستان کا رخ کریں گے: رپورٹ


فائل فوٹو

فائل فوٹو

سلمان شاہ نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ آنے والے سالوں میں ایسے غریب ممالک جہاں امن و امان کی صورتحال خراب ہو وہاں سے شاید کسی حد تک لوگ پاکستان آئیں لیکن روزگار کے لیے کسی بڑی تعداد میں لوگوں کا یہاں کا رخ کرنے میں ابھی بہت وقت درکار ہے۔

بین الاقوامی مالیاتی اداروں کی ایک تازہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آئندہ دہائی میں پاکستان خطے کے ان ملکوں میں شامل ہو جائے گا جہاں بیرون ملک سے روزگار کے لیے لوگ آئیں گے۔

عالمی بینک اور بین الاقوامی فنڈ برائے زرعی ترقی کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق اس وقت ملائیشیا اور تھائی لینڈ میں ایک کثیر تعداد میں دوسرے ملکوں سے آئے لوگ اپنی روزی کما رہے ہیں اور آئندہ دہائی میں یہی صورتحال پاکستان اور بھارت کی بھی ہو گی۔

دہشت گردی اور توانائی کے بحرانوں سے پاکستان کی معیشت کو گزشتہ چند برسوں میں شدید نقصان پہنچا ہے لیکن دو سالوں کے دوران حکومت کی طرف سے کیے گئے اقدامات سے عہدیداروں کے بقول ملکی معیشت اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کی طرف گامزن ہے۔

کئی بین الاقوامی ادارے پاکستان کے اقتصادی اشاریوں کو بھی مثبت قرار دے چکے ہیں جب کہ رواں سال اربوں ڈالر کے چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے کو بھی پاکستان میں ترقی و خوشحالی کے لیے ایک "قسمت بدلنے" کا منصوبہ قرار دیا جا رہا ہے۔

اس تمام صورتحال کے باوجود ملک میں غربت اور بے روزگاری کی صورتحال کو دیکھتے ہوئے مقامی سطح پر حکومت کو حسب معمول تنقید کا سامنا ہے۔

ورلڈ بینک اور آئی ایف اے ڈی کی رپورٹ میں بتائی گئی تفصیلات کے تناظر میں مبصرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کی اقتصادی شرح نمو ایسی نہیں ہے کہ مستقبل قریب میں یہ سچ ہوتا دکھائی دے۔

سابق مشیر خزانہ اور اقتصادی امور کے ماہر سلمان شاہ نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ آنے والے سالوں میں ایسے غریب ممالک جہاں امن و امان کی صورتحال خراب ہو وہاں سے شاید کسی حد تک لوگ پاکستان آئیں لیکن روزگار کے لیے کسی بڑی تعداد میں لوگوں کا یہاں کا رخ کرنے میں ابھی بہت وقت درکار ہے۔

حکومتی عہدیدار یہ کہہ چکے ہیں کہ زراعت، تعمیرات اور صنعتی شعبے میں کیے گئے اقدامات سے آئندہ مالی سال میں 20 لاکھ سے زائد روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے جس سے ملک میں بے روزگاری کی شرح میں نمایاں کمی آئے گی۔

XS
SM
MD
LG