رسائی کے لنکس

کوئلے کے ذخائر سے بجلی پیدا کرنے پر زور


ملک میں توانائی کے شدید بحران سے پریشان عوام آئے روز سراپا احتجاج سڑکوں پر نظر آتے ہیں

ملک میں توانائی کے شدید بحران سے پریشان عوام آئے روز سراپا احتجاج سڑکوں پر نظر آتے ہیں

پاکستان میں توانائی کے شدید بحران پر قابو پانے کے لیے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کی زیر صدارت لاہور میں ہونے والی ’’نیشنل انرجی کانفرنس‘‘ کے شرکاء نے سندھ میں کوئلے کے ذخائر سے بجلی پیدا کرنے پر زور دیا۔

چاروں صوبائی وزرائے اعلیٰ کے علاوہ پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کے وزیراعظم اور گلگت بلتستان کے اعلیٰ عہدیداروں سمیت بڑی تعداد میں متعلقہ افراد بھی اس کانفرنس میں شریک تھے۔

بطور میزبان اپنے افتتاحی خطاب میں پنجاب کے وزیراعلیٰ شہباز شریف نے کہا کہ توانائی کے بحران سے پورا ملک ہی دوچار ہے لیکن ان کے صوبے میں لوڈشیڈنگ کا معاملہ ’’سنگین‘‘ ہے۔

انھوں نے کہا کہ پنجاب میں بل تو بروقت ادا ہوتے ہیں لیکن بجلی کی فراہمی میں ان کے بقول صوبے کے ساتھ نا انصافی ہوتی ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ توانائی کے بحران سے بے روزگاری بڑھ رہی ہے، غریب طبقہ بری طرح متاثر ہو رہا ہے اور صنعت کاروں کو ’آرڈر‘ نہیں مل رہے ہیں۔

’’ہماری برآمدات کم ہو رہی ہیں اور صنعتوں کو بحران کا سامنا ہے۔ ائیرکنڈیشن چلانے والوں اور غریب صارفین سے بھی (ابتدائی 100 یونٹس) بجلی استعمال کے یکساں نرخ وصول کیے جائیں تو عذاب نہیں ہو گا تو اور کیا ہو گا۔‘‘

اُنھوں نے وزیراعظم سے کہا کہ غریب صارفین کو سستی بجلی کی فراہمی کے لیے سخت فیصلے جلد کرنا ہوں۔

وزیراعظم گیلانی نے کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ اس بحران سے نمٹنے کے لیے ان کی حکومت مسلسل کوششیں کر رہی ہے اور گزشتہ چار برسوں میں 3400 میگاواٹ بجلی قومی گرڈ میں شامل کی جا چکی ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ سندھ میں تھر کے مقام پر کوئلے کے ذخائر سے بجلی کی پیداوار سمیت کئی منصوبوں پر کام جاری ہے۔ توانائی کے شعبے کے ماہرین کہتے ہیں کہ تھر میں کوئلے کے ذخائر نو ہزار مربع کلو میٹر علاقے پر پھیلے ہوئے ہیں۔

قومی کانفرنس میں توانائی کی ضروریات کی تکمیل کے لیے لائحہ عمل وضع کرنا، گھریلو صارفیں کے ساتھ ساتھ صنعتی اور زرعی شعبے کو بجلی کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے ترجیحی پیمانے پر اقدامات، توانائی کے متبادل ذرائع کا فروغ اور بجلی کی بچت کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات پر بھی غور کیا گیا۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG