رسائی کے لنکس

اس وقت ملک میں نو ہزار دو سو میگاواٹ بجلی پیدا ہورہی ہے جب کہ اس کی طلب 13 ہزار آٹھ سو سے لے کر 14 ہزار میگاواٹ تک ہے۔

توانائی کے شدید بحران سے دوچار ملک پاکستان کے عوام کے لیے ایک اچھی خبر یہ ہے کہ آئندہ چند روز میں بجلی کی لوڈشیڈنگ کے دورانیے میں کمی متوقع ہے۔

نگراں حکومت کے میشر خزانہ ڈاکٹر شاہد امجد نے وزیر پانی و بجلی مصدق ملک اور پٹرولیم و قدرتی وسائل کے وزیر سہیل وجاہت صدیقی کےہمراہ ہفتہ کو اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں کی سہولت اور ان کی مدد کے لیے دس ارب روپے جاری کردیے گئے ہیں جب کہ مزید 20 ارب روپے بھی آئندہ چند روز میں جاری کیے جائیں گے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ پیداواری کمپنیوں کو 35 ارب روپے آئندہ ماہ جاری کیے جائیں گے تاکہ لوڈشیڈنگ کو کم کیا جاسکے۔

حالیہ برسوں میں توانائی کے شدید بحران کے باعث عوام سردیوں میں گیس اور گرمیوں میں بجلی کی بندش سے شدید مشکلات سے دورچار رہے ہیں جب کہ حالیہ ہفتوں میں طویل دورانیے کی لوڈشیڈنگ نے ان کی زندگی دو بھر کردی ہے۔

توانائی کے اس بحران سے نہ صرف گھریلو صارف متاثر ہوا بلکہ صنعتی اور کاروباری شعبہ بھی مشکلات سے دوچار ہے۔

مشیر خزانہ شاہد امجد کا کہنا تھا کہ توانائی کے بحران کا جائزہ لینے اور بجلی کی قلت دور کرنے کے لیے ایک مختصر مدت کی حکمت عملی وضع کرنے کے لیے ایک تین رکنی کمیٹی قائم کردی گئی ہے۔

عہدیداروں کے مطابق اس وقت ملک میں نو ہزار دو سو میگاواٹ بجلی پیدا ہورہی ہے جب کہ اس کی طلب 13 ہزار آٹھ سو سے لے کر 14 ہزار میگاواٹ تک ہے۔

وزیر پانی و بجلی کے بقول آئندہ ہفتے تک بجلی کی پیداوار 1900 میگاواٹ بڑھائی جائے گی اور ان کی پوری کوشش ہوگی کہ لوڈشیڈنگ کا دورانیہ خاطر خواہ حد تک کم کیا جاسکے۔

نگراں وزیرپٹرولیم سہیل وجاہت کا کہنا تھا کہ آئندہ دو روز میں بجلی گھروں کو مزید 15 کروڑ مکعب فٹ اضافی گیس فراہم کی جائے گی۔

نگراں وزیراعظم میر ہزار خان کھوسو بھی یہ کہہ چکے ہیں کہ توانائی کے بحران پر قابو پانے کے لیے ان کی عبوری حکومت بھی اپنی کوششوں کو بروئے کار لائے گی۔

امریکہ بھی پاکستان میں توانائی کے بحران پر قابو پانے کے لیے تھرمل اور ہائیڈل پاور منصوبوں میں معاونت فراہم کررہا ہے ۔ ان میں پرانے بجلی گھروں کی استعداد کار بڑھانے اور نئے ڈیموں کی تعمیر کے منصوبے شامل ہیں۔
XS
SM
MD
LG