رسائی کے لنکس

پاکستان کو شدید توانائی کے بحران کا سامنا ہے جو کہ دہشت گردی اور بدامنی کے علاوہ ملک کی کمزور معیشت کی ایک بڑی وجہ جانی جاتی ہے۔

توانائی کے لیے وزیراعظم کے معاون خصوصی مصدق ملک نے کہا ہے کہ نئی حکمت عملی کے تحت توانائی کے صرف ان منصوبوں پر توجہ مرکوز کی جائے گی جن سے سستی بجلی حاصل ہو سکے۔

مصدق ملک نے وائس آف امریکہ سے خصوصی گفتگو میں کہا کہ ماضی کی حکومتیں کسی بھی قیمت پر بجلی حاصل کرنے کی پالیسی پر کار بند رہیں جس کی وجہ سے ملک میں پیدا ہونے والی بجلی کی قیمت دیگر علاقائی ممالک کی نسبت بہت زیادہ ہے۔

’’ہمارے ہمسائے ملک (بھارت) میں بجلی چار روپے فی یونٹ ملتی ہے جبکہ ہمارے یہاں یہ 15 روپے فی یونٹ ہے جو کہ ہم آٹھ روپے کی بیچتے ہیں۔ اتنی مہنگی بجلی بنانے کا فیصلہ انھوں نے کیا جو اس وقت کے فیصلہ سازوں کے ساتھ بیٹھے اور کہا کہ بجلی تیل اور ڈیزل سے پیدا کی جائے۔‘‘

انھوں نے کہا کہ نئی پالیسی کا مرکزی نکتہ بجلی کی پیدوار کے نئے اور روایتی طریقوں کو اختیار کیا جائے گا جس میں پانی، کوئلے اور شمسی تونائی کے منصوبے شامل ہیں۔

’’ہم اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ ان میں وہ ٹیکنالوجی استعمال ہو جن سے حاصل ہونے والی بجلی کی قیمت وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ کم ہوتی رہے۔ پھر ہم چاہیں گے کہ ہمارا بجلی کی ترسیل کا نظام بھی بہتر ہو اور غیر ملکی کمپنیوں کے شراکت داری سے نا صرف ٹیکنالوجی پاکستان آئے بلکہ نئے کاروباری ماڈل بھی آئیں۔‘‘

پاکستان کو شدید توانائی کے بحران کا سامنا ہے جو کہ دہشت گردی اور بدامنی کے علاوہ ملک کی کمزور معیشت کی ایک بڑی وجہ بتائی جاتی ہے۔

وزارت خزانہ نے گزشتہ ہفتے ہی بجلی بنانے والی کمپنیوں کو تقریباً 500 ارب روپے کے مجموعی زیر گردش قرضے کی رقم میں سے 322 ارب روپے ادا کیے ہیں۔ حکام کے بقول یہ قرضے مہنگے داموں حاصل ہونے والی بجلی کو سستے داموں فروخت کرنا اور اس فرق کو حکومتی خزانے سے پورا کرنے کی وجہ سے بڑھتے چلے گئے۔

بین الاقوامی مالیاتی ادارے پاکستان سے توانائی کے شعبے میں ان کے بقول غیر منصفانہ مراعات کے خاتمے اور متعلقہ اداروں کی کارکردگی بہتر بنانےکا مطالبہ کرتے آئے ہیں۔

وزارت خزانہ کے حکام کے مطابق 3 سے 5 ارب ڈالر کے قرضے کے لیے اسلام آباد میں جاری مذاکرات میں بھی آئی ایم ایف کی ٹیم کی طرف سے اس مطالبہ کو دہرایا گیا ہے۔ حکومت میں شامل عہدیدار یہ کہہ چکے ہیں کہ آئی ایم ایف سے متوقع طور پر حاصل ہونے والی رقم مختلف قرضوں کی ادائیگی کے لیے ضروری ہے۔

وزیراعظم کے خصوصی معاون کے مطابق ملک میں بجلی کی چوری سے حکومت کے خزانے کو سالانہ 200 ارب روپے کا نقصان ہوتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری لانے کے لیے حکومت کو ایک بہتر کاروباری ماڈل تیار کرنا ہوگا جس میں نجی شعبے کو ان کے بقول اچھے فوائد حاصل ہوں۔

’’غیر ملکی سرمایہ کاری تب آئے گی جب وہ دیکھیں گے کہ مقامی سرمایہ کار بھی توانائی میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔ یہ کہنا آسان ہے کہ نئی حکومت ہے اور ہر ایک سرمایہ کاری کرے گا مگر یہ تبہی ممکن ہے جب ہم اس پالیسی کو صیحح انداز میں نافذ کریں اور چھ، آٹھ مہینوں میں بہتر نتائج دکھائیں۔‘‘

مصدق ملک کا کہنا تھا کہ ملک میں دہشت گردی اور بدامنی سرمایہ کاری پر اثر انداز نہیں ہوگی۔ ’’اس سے پہلے بھی لوگ سرمایہ کاری کرتے رہے ہیں۔ جب ملک کے سکیورٹی کے حالات خراب تھے تب بھی سرمایہ کاری ہوتی رہی ہے۔ یہ تو گزشتہ دو تین سالوں سے رک گئی ہے۔‘‘

انھوں نے بتایا کہ نئی توانائی پالیسی کو حتمی شکل دینے کا عمل ابھی جاری ہے اور اس پالیسی کا اعلان وزیراعظم میاں نواز شریف خود کریں گے۔

وزیراعظم بننے کے بعد اپنے پہلے دورے میں نواز شریف جمعرات کو چین جا رہے ہیں جہاں حکام کے مطابق اقتصادی اور تجارتی تعاون کے علاوہ وہ توانائی کے شعبے میں بہتری کے لیے بھی چین سے معاونت کا کہیں گے۔
XS
SM
MD
LG