رسائی کے لنکس

بجلی کی کمی دور کرنے کی حکمت عملی منظور


خواجہ آصف پریس کانفرنس سے خطاب کررہے ہیں

خواجہ آصف پریس کانفرنس سے خطاب کررہے ہیں

وفاقی وزیر برائے پانی و بجلی خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ بجلی کے نئے منصوبوں کے لیے متعلقہ وزارتوں اور محکموں کی کارکردگی کو فعال بنایا جائے گا

پاکستان کی بڑی فیصلہ ساز کونسل ’مشترکہ مفاد کونسل‘ نے بدھ کو ملکی معیشت کو کمزور کر دینے والی بجلی کی قلت کے خاتمے کے لیے ایک نئی پانچ سالہ پالیسی کی منظوری دی۔

پالیسی کے تحت آئندہ پانچ سالوں کے دوران حکومت کوئلے سے چلنے والے بجلی گھروں کے قیام پر ترجیحی بنیادوں پر کام کرے گی اور بجلی کی طلب اور رسد میں موجودہ پانچ ہزار میگا واٹ کے فرق کو ختم کیا جائے گا۔

اجلاس کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے پانی و بجلی خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ بجلی کے نئے منصوبوں کے لیے متعلقہ وزارتوں اور محکموں کی کارکردگی کو فعال بنایا جائے گا اور بجلی کی ترسیل کے غیر فعال نظام کی وجہ سے کروڑوں روپے کے نقصانات میں کمی لانے کے لیے سخت ترین اقدامات کیے جائیں گے جن میں ’’غیر فعال‘‘ انتظامیہ کی تبدیلی بھی شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ تمام صوبوں سے مشاورت کے بعد بجلی کی بچت سے متعلق فیصلوں کے ساتھ ساتھ 60 کروڑ انرجی سیور بلب بھی تقسیم کیے جائیں گے اور ان دونوں اقدامات سے دو ہزار میگا واٹ بجلی کی بچت ہوگی۔

’’جس طرح ہم بجلی استعمال کرتے ہیں اس میں کہیں بھی یہ شہادت نہیں ملتی کہ اس ملک میں بجلی کی کمی ہے۔ یہاں چراغاں بھی ہوتا ہے۔ گلیوں کی بتیاں دن کو بھی جلی رہتی ہے۔ مارکیٹیں اور کاروبار شام کو شروع ہوتے ہیں۔ جس چیز کی کمی ہے ہم اسے ضائع کرکے اپنے کاروبار چلاتے ہیں۔‘‘

خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ مستقل میں توانائی کے شعبے میں زیر گردش قرضے سے بچنے کے لیے حکومت آئندہ سال سے اس شعبے میں دی جانے والی سبسڈی اور مراعات کو کم کرے گی اوربجلی کی قیمتوں میں اضافہ کرنا بھی اب نا گزیر ہے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس کا اثر کم بجلی استعمال کرنے والے صارفیں پر نہیں پڑے گا۔

وزیراعظم نواز شریف کی حکومت نے حال ہی میں زیر گردش قرضے کی مد میں 480 ارب روپے بجلی بنانے والی کمپنیوں کو ادا کیے ہیں۔

بین الاقوامی مالیاتی ادارے اور ماہرین بھی پاکستان میں توانائی کے بحران پر قابو پانے کے لیے ان کے بقول غیر منصافانہ مراعات کے خاتمے اور اس شعبے میں بھرپور اصلاحات کا مطالبہ کرتے ہیں۔

بجلی بنانے کے منصوبوں میں ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی سے متعلق مجوزہ اقدامات کے بارے میں وزیراعظم کے مشیر برائے توانائی مصدق ملک کا کہنا تھا ’’سرکار کے پاس اتنا پیسہ نہیں کہ وہ منصوبوں پر خرچ کرے۔ سنگاپور اور دیگر ممالک کی طرح ہم بنیادی ڈھانچہ بنائیں گے جس سے ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کی طرف مائل کیا جائے گا۔‘‘

توانائی کے بحران پر قابو پانا حکومت کی اولین ترجیح ہے اور اپنے پہلے سرکاری دورہ چین پر اور پاکستان آنے والے غیر ملکی شخصیات سے وزیراعظم نواز شریف نے اس سلسلے میں ان کی حکومت کی مدد کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

وزیر برائے پانی و بجلی نے تمام صوبوں پر زور دیا کہ وہ ملک میں ہونے والی بجلی کی کروڑوں روپے کی چوری کو روکنے کے لیے وفاقی حکومت کی معاونت کریں۔

مشترکہ مفاد کونسل کے اجلاس میں بجلی چوروں کے خلاف سخت کارروائی سے متعلق ایک قانونی مسودے کی بھی منظوری دی گئی جس کے تحت بجلی چوری کا عمل ناقابل ضمانت جرم ہوگا۔
XS
SM
MD
LG