رسائی کے لنکس

پڑوسی ممالک سے بجلی درآمد کے امکانات کا جائزہ لینے کا حکم


وزیراعظم کی زیرصدارت اجلاس (فائل فوٹو)

وزیراعظم کی زیرصدارت اجلاس (فائل فوٹو)

اجلاس میں یہ بھی بتایا گیا کہ رواں ماہ کے اواخرا تک تمام فریقوں سے مشاورت کے بعد مختصر، درمیانے اور طویل المدت اقدامات پر مشتمل جامع ’توانائی پالیسی‘ تیار کر لی جائے گی۔

پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف کی سربراہی میں ایک اعلٰی سطحی کمیٹی نے توانائی کے بحران اور اس کے حل کے لیے کیے جانے والے اقدامات کا جائزہ لیا۔

جمعہ کو اجلاس کے بعد جاری کردہ سرکاری بیان میں کہا گیا کہ کمیٹی نے بجلی کی پیداوار بڑھانے اور توانائی کے متبادل ذرائع کی تلاش کے لیے ٹھوس اقدامات کرنے کا اصولی فیصلہ بھی کیا۔

بیان کے مطابق کمیٹی نے بجلی چوری روکنے اور قیمتوں کو مناسب سطح پر لانے کی ضرورت پر بھی زور دیا تاہم وزیراعظم نے ہدایت کہ یہ کوشش کی جائے کہ غریب عوام پر اس کے اثرات نا پڑیں۔

لوڈشیڈنگ کے دورانیے میں کمی کے لیے وقت کے تعین کے بارے میں ماہرین نے کمیٹی کو تفصیلی بریفنگ دی اور اجلاس میں یہ بھی بتایا گیا کہ رواں ماہ کے اواخرا تک تمام فریقوں سے مشاورت کے بعد مختصر، درمیانے اور طویل المدت اقدامات پر مشتمل جامع ’توانائی پالیسی‘ تیار کر لی جائے گی۔

وزیراعظم نے ہدایت کی کہ اس ضمن میں ہونے والے مشاورتی عمل میں صوبوں کو بھی شامل کیا جائے۔

بجلی کے واجب الادا بلوں کی وصولی کے لیے وضع کردہ طریقہ سے بھی کمیٹی کو آگاہ کیا۔ وزیراعظم نے کمیٹی کو ہدایت کی کہ پڑوسی ممالک سے فوری طور پر بجلی کی درآمد کے ممکنہ منصوبوں کا بھی جائزہ لیا جائے تاکہ ملک کو درپیش توانائی کے بحران میں جلد از جلد کمی لائی جا سکے۔

وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے جمعرات کو ایک نیوز کانفرنس میں بتایا تھا کہ تیل سے بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں کے واجب الادا پانچ سو ارب روپے کے گردشی قرضوں کو ساٹھ دن میں ادا کر دیا جائے گا۔

’’گردشی قرضوں کی ادائیگی کے بعد نتائج بہت جلد آئیں گے اور ہم سنجیدگی سے اس پر کام کر رہے ہیں۔‘‘

وزیراطلاعات پرویز رشید بھی کہہ چکے ہیں بجٹ میں توانائی کے بحران کے حل کے لیے خاص طور پر فنڈز مختص کیے ہیں۔

’’ہمارے بجٹ میں وہ تمام تدابیر موجود ہیں جن سے ہم اپنے پاؤں پر کھڑے ہو سکیں گے۔‘‘

پاکستان کو توانائی کے شدید بحران کا سامنا ہے اور مسلم لیگ (ن) نے اپنی انتخابی مہم میں کہا تھا کہ حکومت میں آنے کے بعد اس مسئلے کے حل کے لیے ہنگامی اقدامات کیے جائیں گے۔

وزیراعظم نواز شریف نے اپنی ذمہ داریاں سنبھالنے کے بعد فوری طور پر ایک اعلٰی سطحی توانائی کمیٹی تشکیل دی اور جمعہ کو ہونے والے اجلاس میں اُنھوں فیصلہ کیا کہ ہر ہفتے توانائی کی صورت کا جائزہ لیا جائے گا۔
XS
SM
MD
LG