رسائی کے لنکس

پیٹرول کا ’’حیرت انگیز‘‘ متبادل

  • اسلام آباد

انجینیئر آغا وقار احمد خان

انجینیئر آغا وقار احمد خان

صرف گاڑی ہی نہیں بلکہ بجلی کی پیداوار اور ریل انجن چلانے کے لیے بھی اس ٹیکنالوجی سے استفادہ کرنے کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

پاکستان اس وقت توانائی کے شدید بحران سے دوچار ہے اور اندرون ملک ایندھن کی ضروریات پوری کرنے کے لیے 85 فیصد تیل درآمد کیا جاتا ہے جس کی ادائیگی غیر ملکی برآمدات اور ترسیلاتِ زر سے حاصل ہونے والی آمدن سے کی جاتی ہے۔

ان حالات میں آغا وقار احمد نامی ایک پاکستانی انجینیئر نے پانی سے گاڑی چلانے کا حیرت انگیز مظاہرہ کر کے سنگین مالی مسائل کے شکار اپنے ملک کو یقیناً ایک بڑی خوشخبری دی ہے۔

سندھ سے تعلق رکھنے والے انجینیئر وقار احمد نے ایک روز قبل اسلام آباد میں پاکستانی اراکین پارلیمان اور سائنسدانوں کے سامنے پیٹرول یا سی این جی کی بجائے پانی سے گاڑی کو چلا کر سب کو ششدر کر دیا تھا۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو میں اس پاکستانی انجینیئر نے پانی کو ایندھن میں بدلنے کی واٹر فیول کٹ کی تفصیلات بتاتے ہوئے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ قومی سطح پر اس منصوبے کو ترقی دے کر ملک کو درپیش توانائی کے بحران سے نمٹنے میں مدد مل سکتی ہے۔


’’بجلی گھر بھی اس سے چلائے جا سکتے ہیں۔ گیس کی لوڈشیڈنگ ہے اور سارے (جو مسائل ہیں وہ اس ایجاد سے) ختم ہو جائیں گے …. ایسی ٹیکنالوجی اس سے پہلے دنیا میں کہیں متعارف نہیں ہوئی کہ پینے والے پانی سے آپ آٹو انجن چلا سکیں۔‘‘

سرکاری ادارے ’پاکستان کونسل آف سائینٹفک اینڈ انڈسٹریل ریسرچ‘ کے چیئرمین ڈاکٹر شوکت پرویز نے انجینیئر وقار کے موقف کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ پانی کو ایندھن کے طور پر استعمال کرنے کی یہ ایجاد ملک کو درپیش توانائی کے بحران سے نکالنے میں مدد دے سکتی ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ صرف گاڑی کی حد تک نہیں بلکہ بجلی کی پیداوار اور ریل انجن چلانے کے لیے بھی اس ٹیکنالوجی سے استفادہ کرنے کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

انجینیئر وقار اور سرکاری عہدے داروں نے باضابطہ طور پر اس حیرت انگیز فارمولے کی وضاحت کرنے سے گریز کیا ہے۔

پاکستان انجیئنرنگ کونسل کے عہدے داروں کا کہنا ہے کہ حکومت کی ہدایت پر آغا وقار احمد کی ایجاد کردہ کٹ کی قومی سطح پر پیداوار کے امکانات جائزہ لیا جا رہا ہے جس کے حتمی نتائج کا سرکاری اعلان 14 اگست کو قومی دن کے موقع پر متوقع ہے۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG