رسائی کے لنکس

’’بیرونی سرمایہ کاری کے فروغ سے توانائی کے بحران پر قابو پائیں گے‘‘

  • حسن سید

’’بیرونی سرمایہ کاری کے فروغ سے توانائی کے بحران پر قابو پائیں گے‘‘

’’بیرونی سرمایہ کاری کے فروغ سے توانائی کے بحران پر قابو پائیں گے‘‘

وائس آف امریکہ سے انٹرویو میں سرکاری ادارے آئل اینڈ گیس ڈویلپمنٹ کمپنی لمیٹڈ یعنی او جی ڈی سی ایل کے سربراہ نعیم ملک نے بتایا کہ بیرونی سرمایہ کاروں کو خاص طور پر تیل اور گیس کے شعبوں میں سرمایہ کاری کے پرکشش موقعوں سے متعلق مکمل آگہی دی جائے گی اور اس ضمن میں غلط فہمیاں دور کی جائیں گی۔

پاکستان کی بڑی سرکاری اور نجی کمپنیاں اگلے ہفتے کے شروع میں نیو یارک میں منعقد ہونے والی ایک بین الاقوامی کانفرنس میں شرکت کر رہی ہیں جہاں وہ امریکہ سمیت دیگر ملکوں کو پاکستان میں شدت سے درکار بیرونی سرمایہ کے لیے راغب کریں گی۔

عالمی کانفرنس میں تیل اور گیس کے علاوہ بینکاری، سیمنٹ، خوراک اور کھاد کی صنعت سے وابستہ اداروں کے نمائندے شرکت کریں گے۔

وائس آف امریکہ سے انٹرویو میں سرکاری ادارے آئل اینڈ گیس ڈویلپمنٹ کمپنی لمیٹڈ یعنی او جی ڈی سی ایل کے سربراہ نعیم ملک نے بتایا کہ بیرونی سرمایہ کاروں کو خاص طور پر تیل اور گیس کے شعبوں میں سرمایہ کاری کے پرکشش موقعوں سے متعلق مکمل آگہی دی جائے گی اور اس ضمن میں غلط فہمیاں دور کی جائیں گی۔

ان کے مطابق تیل اور گیس کے ذخائر کی تلاش کے لیے بیرونی سرمایہ آنے سے یہ فائدہ ہوگا کہ اندرون ملک توانائی کے بحران پر قابو پانے میں مدد ملے گی جبکہ مقامی طور پر تیل اور گیس کی پیداوار بڑھنے سے پاکستانی عوام کو بھی ریلیف حاصل ہو گا جو پٹرولیم کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کی وجہ سے مسائل کا شکارہیں۔

’’پاکستان تیل اور گیس کے ذخائر کا جو علاقہ ہے اس کے صرف ایک تہائی حصے پر اس وقت تلاش ہو رہی ہے جب کہ باقی دو تہائی پر تلاش کے لیے ہم بیرونی سرمایہ کاری لانا چاہتے ہیں‘‘۔

تاہم ادارے کے سربراہ نے یہ بھی واضح کیا کہ تیل اور گیس کی تلاش سمیت دیگر منصوبوں میں بیرونی سرمایہ کاری کے نتائج فوری طور پر برآمد نہیں ہوتے بلکہ اس کے فوائد بتدریج حاصل ہوتے ہیں۔

نعیم ملک کا کہنا تھا کہ پاکستانی کمپنیوں کے نمائندے بیرونی دنیا کو اس بات سے آگاہ کریں گے کہ ملک کے اندر بیرونی سرمایہ کاری کے لیے نہایت شفاف پالیسیاں موجود ہیں اور یہاں خرچ کیے جانے والے پیسے کو ملکی قوانین کے تحت مکمل تحفظ حاصل ہے۔

پاکستان اس وقت توانائی کے سنگین بحران کا شکار ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ وہ پٹرولیم کی درآمد پر ہرسال دس ارب ڈالر سے زائد کی رقم خرچ کرتی ہے اور عالمی سطح پر اس کی قیمتوں میں اضافے کے بعد حکومت کے پاس نرخ بڑھانے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔

جب کہ اوجی ڈی سی ایل کے سربراہ کا کہنا ہے کہ اگر بیرونی سرمایہ کاروں کی شراکت ہو تو اندرون ملک میں موجود تیل و گیس کے ذخائر سے ہی سو فیصد ضرورت کو پورا کیا جا سکتا ہے۔

XS
SM
MD
LG