رسائی کے لنکس

پاکستان اور ایران نے مجوزہ گیس پائپ لائن منصوبے کو جاری رکھنے کے عزم کو دہراتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس پر کسی بھی طرح کا بین الاقوامی دباؤ قبول نہیں کریں گے۔

اسلام آباد میں جمعہ کو سہ فریقی سربراہ اجلاس کے اختتام پر ایرانی صدر محمود احمدی نژاد کے ساتھ مشترکہ نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ توانائی کا حصول پاکستان کے قومی مفاد میں ہے اور اس موقف کو اب عالمی برادری میں بھی تسلیم کیا جا رہا ہے۔

انھوں نے کہا کہ بحیثیت پڑوسی ایران اور پاکستان اقتصادی ترقی کے لیے ایک دوسرے پر انحصار کرتے ہیں۔

’’ہمارے دوطرفہ تعلقات کو کسی بھی طرح کے بین الاقوامی دباؤ سے نقصان نہیں پہنچایا جا سکتا ہے۔‘‘

ایرانی صدر محمود احمدی نژاد نے بھی اپنے پاکستانی ہم منصب کے موقف کی تائید کرتے ہوئے گیس پائپ لائن منصوبے پر کسی بھی بیرونی دباؤ کو مسترد کیا۔

دونوں ملکوں نے اس موقع پر اپنے سیاسی، اقتصادی اور تجارتی روابط کو وسعت دینے کے عزم کا اعادہ کیا جب کہ ایرانی صدر نے پاکستانی ہم منصب کی دعوت کو قبول کرتے ہوئے جلد پاکستان کا دورہ کرنے کا وعدہ بھی کیا۔

پاکستانی عہدیدار پہلے بھی یہ واضح کر چکے ہیں کہ ایران سے قدرتی گیس کی درآمد کا یہ منصوبہ ملک توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے اس کی کوششوں میں انتہائی اہم ہے۔

سات ارب ڈالر مالیت کے اس منصوبے کے تحت ایران اور پاکستان کو ملانے والی 2,100 کلومیٹر طویل پائپ لائن کے ذریعے روزانہ 70 کروڑ کیوبک فٹ سے زائد قدرتی گیس درآمد کی جائے گی۔

دونوں ملکوں کا کہنا ہے کہ پائپ لائن بچھانے کا کام جاری ہے اور 2014ء میں ایران سے گیس درآمد شروع ہو جائے گی۔

ایران کے متنازع جوہری پروگرام کے تناظر میں اقوام متحدہ کی طرف سے تہران پر پابندیوں کے علاوہ واشنگٹن نے اپنے طور اس ملک کے خلاف تیل اور بینکاری کے شعبے میں اضافی تعزیرات عائد کر رکھی ہیں۔

لیکن پاکستان یہ کہہ چکا ہے کہ یہ پابندیاں مجوزہ پائپ لائن کے ذریعے ایرانی سے قدرتی گیس درآمد کرنے کے دوطرفہ منصوبے کی راہ میں رکاوٹ نہیں بنیں گی۔

XS
SM
MD
LG