رسائی کے لنکس

پاکستان: توانائی پالیسی کے لیے رپورٹ وزیراعظم کو پیش


فائل فوٹو

فائل فوٹو

وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ نئی توانائی پالیسی میں کوئلے اور شمسی توانائی سے بجلی کرنے کو اولین ترجیح دی جائے گی۔

توانائی کے شدید بحران سے دوچار پاکستان کے لیے قومی توانائی پالیسی کے بارے میں جمعہ کو ایک رپورٹ وزیراعظم کو پیش کی گئی جس میں مختلف اقدامات کے علاوہ بجلی پر زر اعانت سے متعلق تجویز بھی شامل ہے۔

قبل ازیں قومی توانائی پالیسی کو جمعہ ہی کو حتمی شکل دی جانا تھی۔

وفاقی وزیر اطلاعات سینیٹر پرویز رشید نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو بتایا تھا کہ حکومت توانائی کے بحران پر قابو پانے کے لیے سنجیدگی سے کوششیں کر رہی ہے اور اس مقصد کے حصول کے مختصر، درمیانے اور طویل مدت کے بہت سے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ نئی توانائی پالیسی میں کوئلے اور شمسی توانائی سے بجلی پیدا کرنے کو اولین ترجیح دی جائے گی۔

ملک میں بجلی کی طلب اور رسد میں بڑھتے ہوئے فرق سے گھریلو صارفین کے علاوہ کاروباری شعبہ بھی شدید متاثر ہو رہا ہے۔ طویل دورانیے کی لوڈشیڈنگ سے عوام کی زندگی دو بھر ہو چلی ہے۔

بجلی کی پیدوار میں کمی کی وجوہات میں بجلی گھروں کو ایندھن فراہم کرنے والی کمپنیوں اور بجلی پیدا کرنے والے نجی پلانٹس کو واجب الادا اربوں روپے کا قرض بھی جس کی عدم ادائیگی کی وجہ سے یہ کمپنیاں مقررہ مقدار میں تیل اور گیس بجلی کے پیداواری یونٹس کو فراہم نہیں کر رہیں۔

وفاقی وزیرخزانہ نے رواں ماہ وفاق بجٹ پیش کرتے ہوئے اعلان کیا تھا کہ ان کمپینوں کے تقریباً پانچ سو ارب روپے کے قرضے دو ماہ میں ادا کر دیے جائیں گے۔

وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے اعلان کیا ہے کہ اس قرضے میں سے 326 ارب روپے جمعہ کو ادا کیے جا رہے ہیں جس سے بجلی کی پیداوار میں بہتری آئے گی۔

انھوں نے قومی اسمبلی کو بتایا کہ اس اقدام سے رمضان کے مہینے میں لوگوں کو بجلی کی فراہمی میں ریلیف ملے گا۔
XS
SM
MD
LG