رسائی کے لنکس

پاکستان: بجلی کی طویل بندش کے خلاف احتجاج میں شدت


(فائل فوٹو)

(فائل فوٹو)

پاکستان میں بجلی کے بحران کے خلاف احتجاجی مظاہروں میں روز بروز شدت آتی جا رہی ہے اور صوبہ پنجاب کے بعد یہ سلسلہ اب صوبہ خیبر پختون خواہ کے بعض شہروں تک بھی پھیلتا جا رہا ہے۔

حزب مخالف اور حکومتی اراکین نے منگل کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں بھی بجلی کی بندش کا مسئلہ حل نہ کرنے پر وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کی حکومت کو ایک بار پھر کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔

اُدھر اپوزیشن جماعت مسلم لیگ (ن) کے صدر نواز شریف نے بہاولپور میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مظاہرین کے ساتھ مل کر بجلی کے بحران کے خلاف احتجاج کرنے کے اپنے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے حکومت پر اس معاملے سے نمٹنے میں ’’سست روی‘‘ کا مظاہرہ کرنے کا الزام لگایا۔

’’یہ کہنا غلط نہیں ہو گا کہ حکومت نے مکمل بے حسی کا مظاہرہ کیا۔ یہ ناقابل معافی جرم ہے اور حکومت کو اس کا خمیازہ بھگتنا ہو گا۔‘‘

بجلی کے بحران پر حکومت پر کی جانے والی تنقید کا جواب دیتے ہوئے وزیر اعظم گیلانی نے پیر کی شب قومی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ وزیر خزانہ کی سربراہی میں تشکیل دی گئی خصوصی کمیٹی کو بجلی کی پیداواری صنعت سے جڑی سرکاری کمپنیوں کو واجب الادا رقوم کی ادائیگی اوردیگر مسائل کے حل کے لیے اپنی سفارشات جلد سے جلد کابینہ کو پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

لیکن دلچسپ امر یہ ہے کہ امریکہ کے ساتھ دو طرفہ تعلقات میں غیر معمولی کشیدگی سے قطع نظر وزیر اعظم گیلانی نے اپنی تقریر میں پاکستان کے بجلی کے بحران کی ذمہ داری بھی بالواسطہ طور پر امریکہ پر ڈال دی۔

’’میں نے 2009ء میں امریکی حکومت کو متنبہ کر دیا تھا کہ ہمارے ہاں بجلی کی کمی ہے جس کی وجہ سے ہنگامہ آرائی بھی ہو سکتی ہے، اور اگر آپ (امریکہ) دوستی رکھنا چاہتے ہیں پاکستان کے لیے تو اس کے عوام کی جو سب سے بڑی مشکلات ہیں وہ یہ ہیں کہ آپ ان کی بجلی کے مسائل حل کریں۔‘‘

غیر جانبدار مبصرین کے ساتھ ساتھ خود بعض امریکی عہدے دار پاکستان میں حکمران طبقے پر زور دیتے آئے ہیں کہ اُسے اپنے اندرونی مسائل کے حل کے لیے دوسروں پر انحصار کم کرنا ہوگا۔

وائس آف امریکہ کے ساتھ ایک حالیہ انٹرویو میں اسلام آباد میں امریکی سفیر کیمرون منٹر کا کہنا تھا کہ پاکستان کے ساتھ توانائی، تعلیم اور اقتصادی شعبے میں امریکی تعاون کا مقصد پاکستان کو ایک کامیاب ملک بننے میں مدد کرنا ہے۔

امریکی سفیر کیمرون منٹر

امریکی سفیر کیمرون منٹر

’’پاکستانیوں کی حالیہ سالوں میں اپنے مسائل کے حل کے لیے دوسروں کی طرف دیکھنے کی عادت رہی ہے لیکن ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان کی استعداد میں اضافہ کیا جائے تاکہ وہ اپنے مسائل خود حل کر سکے۔‘‘

اُنھوں نے کہا کہ یہ ہدف حاصل کرنے کے لیے امریکہ تعلیم سمیت دیگر شعبوں میں پاکستان سے تعاون بڑھا رہا ہے۔

XS
SM
MD
LG