رسائی کے لنکس

پاکستان میں بجلی کی طویل دورانیے کی غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کے خلاف گھریلو و صنعتی صارفین سراپا احتجاج ہیں۔

آبادی کے لحاظ سے ملک کے سب سے بڑے صوبے پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں بھی صارفین جمعرات کو سڑکوں پر نکل آئے اور حکومت مخالف نعرہ بازی کی۔

صوبائی وزیرِاعلیٰ شہباز شریف بھی ان مظاہرین کے ساتھ شامل ہو گئے اور انھوں نے الزام لگایا کہ پیپلز پارٹی کی سربراہی میں قائم وفاقی حکومت کی ’’سازش‘‘ کے تحت پنجاب کو بجلی فراہم نہیں کی جا رہی ہے۔

اُنھوں نے متنبہ کیا کہ اگر بجلی کی بندش کا یہ سلسلہ جاری رہا تو وہ صوبے کے عوام کو متحرک کرکے اسلام آباد کی جانب احتجاجی مارچ کریں گے۔

وزیر اعلیٰ شہباز شریف

وزیر اعلیٰ شہباز شریف

لیکن شہباز شریف نے مظاہرین سے کہا کہ ان کا احتجاج پرامن ہونا چاہیئے۔ ’’سرکاری املاک کو آگ نہیں لگانی یہ پاکستان اور آپ کی دولت ہے۔ بسوں کو نہیں توڑنا، پتھر نہیں مارنے۔‘‘

جمعرات کو ایک سرکاری بیان میں کہا گیا کہ صدر آصف علی زرداری نے دن بھر کی مصروفیات ختم کر کے ایک ہنگامی اجلاس طلب کیا ہے جس میں بجلی کی قلت کے اسباب کا جائزہ لیا جائے گا۔

بجلی کی ترسیل کے ادارے ’پیپکو‘ کے مطابق ملک میں بجلی کی طلب اور کھپت میں فرق 7,000 میگاواٹ سے بھی زائد ہے۔ توانائی کی اس قلت کے باعث ملک بھر کے شہری و دیہی علاقوں میں چھ سے 18 گھنٹے تک کی لوڈ شیڈنگ کی جا رہی ہے۔

پاکستان میں جاری توانائی کے شدید بحران پر قابو پانے کے لیے گزشتہ ماہ لاہور میں وزیرِاعظم یوسف رضا گیلانی کی زیر صدارت ’’توانائی کانفرنس “ ہوئی جس میں چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ نے بھی شرکت کی تھی۔

اس کانفرنس میں یہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ ملک بھر میں یکساں لوڈ شیڈنگ کی جائے گی جب کہ بچت کے لیے پاکستان بھر میں تمام کاروباری مراکز رات آٹھ بجے بند کرنے کا فیصلہ بھی شامل تھا۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG