رسائی کے لنکس

’انتظامی اقدامات سے بجلی کے بحران پر قابو پانا ممکن‘

  • یاسر منصوری

’انتظامی اقدامات سے بجلی کے بحران پر قابو پانا ممکن‘

’انتظامی اقدامات سے بجلی کے بحران پر قابو پانا ممکن‘

امریکی حکومت کی مالی امداد سے پاکستان میں توانائی کے بحران پر قابو پانے اور بجلی کی پیداوار و تقسیم کے شعبے کی کارکردگی اور استعداد بڑھانے کے مختلف منصوبوں پر کام جاری ہے۔

امریکی ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر پاکستان میں بجلی پیدا کرنے اور اس کی تقسیم کے نظام میں پائی جانے والی خامیوں کو دور کر لیا جائے تو اس سے بجلی کے صارفین کی مشکلات میں فوری طور پر کمی کی جا سکتی ہے۔

یہ منصوبے امریکی ادارہ برائے بین الاقوامی ترقی ’یو ایس ایڈ‘ کے توسط سے شروع کیے گئے ہیں اور اس سلسلے میں بدھ کو اسلام آباد میں ختم ہونے والی ایک خصوصی ورک شاپ میں امریکی ماہرین نے ملک میں بجلی کی تقسیم کے آٹھ سرکاری اداروں کے اعلیٰ عہدے داروں کو توانائی کے شعبے میں جدید حکمت عملی اور انتظامی اُمور سے متعارف کرایا۔

دو روزہ ورکشاپ کے اختتام پر وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے بجلی کی تقسیم کے نظام میں بہتری کے لیے یو ایس ایڈ کے پروگرام کے سربراہ ڈِک ڈمفورڈ نے بتایا کہ ورک شاپ کے شرکاء کو اپنی کمپنیوں کی کارکردگی کو بہتر بنانے، بجلی کے زیاں کو کم کرنے، آمدن بڑھانے اور صارفین کو بہتر سہولتیں فراہم کرنے سے متعلق اقدامات سے آگاہ کیا گیا۔

ڈِک ڈمفورڈ

ڈِک ڈمفورڈ

ڈِک ڈمفورڈ کا کہنا تھا کہ اُن کے منصوبے کا ہدف کمپنیوں کو اپنے محصولات کو اُس سطح پر پہنچانے میں مدد دینا ہے کہ اُن کی آمدن اور اخراجات میں توازن قائم ہو سکے جس کے بعد اُنھیں حکومت کی جانب سے اضافی رقوم درکار نا ہوں۔

اُن کا کہنا تھا کہ یہ ایک مشکل عمل ہو گا لیکن اُنھیں امید ہے کہ مشترکہ کوششوں کے ذریعے اسے حاصل کیا جا سکتا ہے۔

ورک شاپ میں شریک فیصل آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی کے اعلیٰ ترین عہدے دار طارق محمود چٹھا نے بتایا کہ ورک شاپ کے دوران فراہم کی گئی تربیت سے اُنھیں اپنے ادارے کی کارکردگی بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی جانب سے کی گئی حالیہ اصلاحات کے نتیجے میں بجلی کی تقسیم کی کمپنیوں کے محصولات میں اضافہ ہوا ہے۔

طارق محمود چٹھا

طارق محمود چٹھا

”مجھے امید ہے کہ اس سال کے اختتام تک پنجاب کی کمپنیوں کی وصولیاں 100 فیصد ہو جائیں گی جس سے (تیل کی کمپنیوں کو) ادائیگیاں بہتر ہوں گی۔ جہاں تک بجلی کی مانگ اور تقسیم میں فرق کا تعلق ہے وہ تو ظاہر ہے کہ ابھی کچھ سالوں کے لیے رہے گا کیوں کہ بجلی کی پیداوار ڈیموں کے بجائے تیل سے چلنے والے بجلی گھروں سے زیادہ ہو رہی ہے اس لیے مسائل کا سامنا ہے۔ جب بھی کہیں ایندھن کی فراہمی میں فرق پڑتا ہے تو توانائی کے بحران میں شدت آ جاتی ہے۔“

پاکستان کو گزشتہ کئی سالوں سے توانائی کے شدید بحران کا سامنا ہے اور بجلی کی طویل بندش کی وجہ سے جہاں معاشی سرگرمیاں شدید متاثر ہوئی ہیں وہیں معمولات زندگی میں بھی خلل پڑ رہا ہے۔ اس صورتحال کے خلاف ملک کے مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہرے معمول بن چکے ہیں۔

امریکی حکومت نے پاکستان کو توانائی کے بحران پر قابو پانے میں ہرممکن امداد کی یقین دہانی کرا رکھی ہے۔ اس وقت جن بڑے منصوبوں پر کام جاری ہے اُن میں تربیلا ڈیم کی پیداواری صلاحیت میں اضافہ اور قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں گومل زام ڈیم کی تکمیل کے لیے اعانت شامل ہیں۔ گومل زام ڈیم سے قبائلی علاقے کے 25 ہزار خاندان مستفید ہوں گے۔

XS
SM
MD
LG