رسائی کے لنکس

دوبئی ٹیسٹ۔۔۔ اور سعید اجمل کا ’’تیسرا‘‘


دوبئی ٹیسٹ۔۔۔ اور سعید اجمل کا ’’تیسرا‘‘

دوبئی ٹیسٹ۔۔۔ اور سعید اجمل کا ’’تیسرا‘‘

پاکستان اور انگلینڈ کی کرکٹ ٹیموں کے درمیان متحدہ عرب امارات میں ٹیسٹ سیریز کا آغاز منگل کو دوبئی انٹرنیشنل کرکٹ سٹیدڈیم میں پہلے معرکے سے ہورہا ہے۔ سیریز میں مجموعی طور پر تین ٹیسٹ، پانچ ایک روزہ اور تین ٹوئنٹی ٹوئنٹی کھیلے جائیں گے۔

پاکستان اور انگلینڈ کی کرکٹ ٹیموں کے درمیان متحدہ عرب امارات میں ٹیسٹ سیریز کا آغاز منگل کو دوبئی انٹرنیشنل کرکٹ سٹیدڈیم میں پہلے معرکے سے ہورہا ہے۔ سیریز میں مجموعی طور پر تین ٹیسٹ، پانچ ایک روزہ اور تین ٹوئنٹی ٹوئنٹی کھیلے جائیں گے۔

سیریزخاص طور پر پہلا میچ اس لحاظ سے خاصی دلچسپی کا مرکز ہے کہ پاکستانی آف سپنر سعید اجمل دنیائے کرکٹ کو ایک نئی ڈیلیوری سے متعارف کرانے کا دعوی کر رہے ہیں۔ وہ اس ڈیلیوری کو ’’تیسرا‘‘ کا نام دیتے ہیں۔ آف سپن باولر کے باہر جاتی گیند کو دوسرا کہا گیا، کرکٹ پنڈت منتظر ہیں کہ تیسرا کیا ہو گا اور وہ بلے بازوں کے لیے کیا مشکل ساتھ لے کر آئے گا۔

انگلینڈ کی ٹیم اس وقت ٹیسٹ کرکٹ کی عالمی درجہ بندی میں پہلے نمبر پر ہے اور اس کی مسلسل فتوحات اس کے اعتماد کی وجہ ہوں گی۔ پاکستان اگرچہ یہ سیریز نیوٹرل وینیو پر کھیل رہا ہے مگر یہاں کی کنڈیشنزاور وکٹ پاکستان سے کچھ زیادہ مختلف نہ ہونے کی وجہ سے اسے قدرے ایڈوانٹج رہے گا۔ عالمی درجہ بندی میں پانچویں نمبر پر موجود پاکستان کی ٹیم بھی حالیہ دنوں میدان کے اندر اپنی کارکردگی میں بہتری اور تسلسل لانے میں کامیاب رہی ہے اور آف دا گراونڈ بحرانوں سے نکلتی دکھائی دیتی ہے۔ سری لنکا اور بنگلہ دیش کے خلاف حالیہ فتوحات سے ٹیم کا مورال بلند ہے۔ ٹیم کمبی نیشن بھی اچھا ہے۔ خاص طور پر لیفٹ آرم سپنر عبرالرّحمان اور سعید اجمل سے توقعات ہیں کہ وہ انگلش بلے بازوں کے لیے مشکلات پیدا کریں گے۔ لیکن یہ بات بھی یاد رکھنا ہو گی کی تقریبا دو ہفتوں سے متحدہ عرب امارات میں موجود برطانوی پلیئر نہ صرف مقامی موسمی حالات کے ساتھ ایڈجسٹ کر چکے ہوں گے بلکہ سیریز سے قبل دونوں سائیڈ میچز میں مہمان ٹیم کی فتح ظاہر کرتی ہے کہ وہ وہ وکٹ کنڈیشن کو بھی سمجھنے میں زیادہ وقت نہیں لے رہے۔

باولنگ میں انگلش ٹیم کا انحصار گریم سوان، جیمزانینڈرسن اور سٹورٹ براڈ پر ہوگا۔ یہ تینوں باولر اس وقت عالمی درجہ بندی میں ٹاپ ٹین میں شامل ہیں۔ پاکستان عمر گل، سعید اجمل اور عبدالرّحمن پر انحصار کرے گا۔

بلے بازی میں اینڈریوسٹراس، الیسٹر کک، کیون پٹرسن اور جوناتھن ٹراٹ برطانوی ٹیم کی ریڑھ کی ہڈی ہوں گے جبکہ پاکستان اس حوالے سے سینئیر بلے بازوں مصباح الحق اور یونس خان کے ساتھ ساتھ اظہر علی، اسد شفیق اور اوپنر محمد حفیظ سے توقعات رکھتا ہے لیکن واضح رہے کہ دونوں ٹیموں کے درمیان کھیلی گئی آخری سیریز میں پاکستانی بیٹنگ بری طرح فلاپ رہی تھی۔ اور ٹیم اس سیریز میں تین بار سو کا ہندسہ عبور کرنے میں بھی کامیاب نہ ہو سکی تھی۔ مجموعی طور پر پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان اس سے قبل کھیلے جانے والے کل 27 ٹیسٹ میچوں میں انگلینڈ نے گیارہ اور پاکستان نے 9 میں فتح حاصل کر رکھی ہے ۔

XS
SM
MD
LG