رسائی کے لنکس

پاکستان افغانستان میں تشدد کا ذمہ دار نہیں: ملیحہ لودھی


فائل

فائل

پاکستانی مندوب نے ہر قسم کی دہشت گردی کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغانستان میں تشدد پاکستان کے مفاد میں نہیں؛ اور جو لوگ پاک افغان تعلقات کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں وہ دونوں ممالک کے دشمن ہیں

پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اراکین پر واضح کیا ہے کہ افغانستان میں بڑھتے ہوئے تشدد کی جڑیں پاکستان میں نہیں بلکہ افغان آزاد علاقے میں ہیں۔

جمعرات کو سلامتی کونسل کے اجلس میں افغانستان پر بحث کرتے ہوئے پاکستان کی مستقل مندوب، ملیحہ لودھی نے کہا ہے کہ افغانستان میں بہت بڑے علاقے پر حکومت کا کنڑول نہیں جہاں سے نہ صرف افغانستان بلکہ پاکستان کے خلاف بھی پرتشدد کارروائیاں کی جاتی ہیں۔

پاکستانی مندوب نے ہر قسم کی دہشت گردی کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں تشدد پاکستان کے مفاد میں نہیں اور جو لوگ پاک افغان تعلقات کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں وہ دونوں ممالک کے دشمن ہیں۔

انھوں نے یاد دلایا کہ کس طرح پاکستان نے افغان طالبان رہنماؤں کو کابل انتظامیہ سے بات چیت پر آمادہ کیا اور انھیں اس سال جولائی میں مری میں مذاکرات کے میز پر بٹھایا، جہاں دونوں فریقوں نے بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق کیا اور دوسرے راؤنڈ کے لئے 31 جولائی کی تاریخ بھی طے ہوئی۔ لیکن، پھر افغانستان میں تشدد کی متواتر کارروائی کے ذریعے اس کوشش کو سبوتاژ کر دیا گیا۔

ملیحہ لودھی کا کہنا تھا کہ افغانستان کے لئے دو ہی راستے ہیں یا تو وہ باغیوں پر فتح حاصل کرلے یا پھر مذاکرات کے ذریعے امن کے قیام کو یقینی بنائے۔ پوری دنیا امن کے لئے مذاکرات کی راہ پر یقین رکھتی ہے۔

انھوں نے کہا کہ بات چیت اور مفاہمت میں سہولت تو فراہم کی جا سکتی ہے؛ لیکن، کسی پر کوئی حل مسلط نہیں کیا جا سکتا۔

XS
SM
MD
LG