رسائی کے لنکس

332 مجرموں کو تختہ دار پر لٹکایا جا چکا ہے: وزارت داخلہ


فائل فوٹو

فائل فوٹو

یہ بات وفاقی وزارت داخلہ کی طرف سے دہشت گردی کے خلاف وضع کردہ قومی لائحہ عمل سے متعلق قومی اسمبلی میں پیش کیے گئے اعداد و شمار میں بتائی گئی۔

پاکستان کی حکومت نے کہا ہے کہ دسمبر 2014ء میں پھانسیوں پر عائد پابندی ختم کیے جانے کے بعد سے ملک میں اب تک سزائے موت کے 332 مجرموں کو تختہ دار پر لٹکایا جا چکا ہے۔

یہ بات وفاقی وزارت داخلہ کی طرف سے دہشت گردی کے خلاف وضع کردہ قومی لائحہ عمل سے متعلق قومی اسمبلی میں پیش کیے گئے اعداد و شمار میں بتائی گئی۔

16 دسمبر 2014ء کو پشاور کے آرمی پبلک اسکول پر طالبان کے مہلک حملے کے بعد دہشت گردی و انتہا پسندی کے خلاف قومی لائحہ عمل وضع کیا گیا تھا جب کہ ملک میں سزائے موت پر عملدرآمد پر چھ سال سے عائد پابندی کو ختم کرتے ہوئے پہلے دہشت گردی میں ملوث سزائے موت کے مجرموں کو پھانسی دینے کا کہا گیا اور بعد ازاں اس کا دائرہ دیگر جرائم کے مرتکب مجرموں پر تک بھی بڑھایا دیا گیا۔

اقوام متحدہ، یورپی یونین سمیت انسانی حقوق کی مقامی و بین الاقوامی تنظیمیں پاکستانی حکومت سے مطالبہ کرتی آئی ہیں کہ وہ اس پابندی کو دوبارہ بحال کرے لیکن حکومت کا کہنا ہے کہ ملک کو درپیش حالات میں یہ اقدام ناگزیر ہے۔

انسانی حقوق کے سرگرم کارکنوں کا کہنا ہے کہ سزائے موت پر عملدرآمد سے دہشت گردی کے خاتمے کی کوششوں میں قابل ذکر کامیابی حاصل نہیں ہوسکتی اور اب تک تختہ دار پر لٹکائے جانے والوں میں اکثریت ان مجرموں کی ہے جنہیں دہشت گردی کے بجائے دیگر جرائم میں سزائے موت سنائی گئی تھی۔

حکمران جماعت کے سینیٹر عبدالقیوم نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں اس موقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ صورتحال میں سخت سزاؤں پر عملدرآمد بہت ضروری ہے۔

علاوہ ازیں وفاقی وزارت داخلہ کے فراہم کردہ اعداد وشمار کے مطابق قومی لائحہ عمل وضع کیے جانے کے بعد سے ملک میں قانون نافذ کرنے والوں اور سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میںٰ 2159 مشتبہ دہشت گرد ہلاک ہوئے جب کہ 1724 کو گرفتار کیا گیا۔

عسکریت پسندوں سے منسلک دس ویب سائٹس اور انٹرنیٹ پر ان کے 933 پتوں یعنی یو آر ایلز کو بلاک کیا گیا۔

مزید برآں ملک بھر میں 172 دینی مدارس کو دہشت گردی سے منسلک ہونے کے شبے میں بند کیا جا چکا ہے جب کہ موبائل فون کی لگ بھگ دس کروڑ ایسی سمز کو بھی بند کر دیا گیا جو کہ قواعدوضوابط کے مطابق جاری نہیں کی گئی تھی۔

XS
SM
MD
LG