رسائی کے لنکس

فوج کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ مجرمان ملک دشمن پاکستانی طالبان کے سرگرم کارکن تھے جو سلامتی افواج، امدادی کارکنوں اور پولیو ویکسی نیشن عملے پر حملوں میں ملوث پائے گئے تھے

پاکستان میں منگل کے روز دو شدت پسندوں کو پھانسی دے دی گئی، جن کے لیے حکام نے بتایا تھا کہ اُنھیں فوجی عدالتوں نے دہشت گردی سے متعلق سنگین جرائم ثابت ہونے پر سزا سنائی گئی تھی۔

پھانسی پر اُس روز عمل درآمد کیا گیا جب ’ایمنسٹی انٹرنیشنل‘ نے اپنی عالمی رپورٹ میں اس بات کی جانب توجہ دلائی کہ پچھلے سال کے مقابلے میں 2016ء میں پاکستان میں سزائے موت میں 73 فی صد کی کمی واقع ہوئی۔

فوج کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ مجرمان ملک مخالف پاکستانی طالبان کے سرگرم ارکان تھے جو سلامتی افواج، امدادی کارکنوں اور پولیو ویکسی نیشن عملے پر حملوں میں ملوث پائے گئے تھے۔

اُنھوں نے بتایا کہ اِن شدت پسندوں کو ساہیوال کے وسطی شہر کے ’’سخت حصار والے قیدخانے‘‘ میں پھانسی دے دی گئی۔

حالانکہ گذشتہ سال ملک میں سزائے موت کے چند فیصلوں پر عمل درآمد کیا گیا؛ جب کہ ایمنسٹی نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ 2015ء میں گذشتہ سال کے 121 کے مقابلے میں 360 سزائے موت کے فیصلے سنائے گئے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ ’’سال 2016 کے دوران سزائے موت کے کم از کم 87 مجرمان کی سزا پر عمل درآمد کیا گیا۔ تاہم، پاکستان کا شمار دنیا میں سزائے موت پر عمل درآمد کرنے والے چوٹی کے ملکوں میں ہوتا ہے‘‘۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG