رسائی کے لنکس

شفقت حسین کی پھانسی پر عمل درآمد تیسری بار ملتوی


فائل فوٹو

فائل فوٹو

اسلام آباد ہائی کورٹ میں جسٹس اطہر من اللہ نے سماعت کرتے ہوئے کہ عمر کا تعین کرنے کا اخیتار عدالتی کمیشن کے پاس ہے

پاکستان میں سزائے موت کے ایک مجرم شفقت حسین کی پھانسی پر عملدرآمد تیسری مرتبہ ملتوی کر دیا گیا ہے۔

مجرم نے اپنی عمر کے تعین کے لیے جوڈیشل انکوائری کی درخواست دائر کر رکھی تھی جب کہ حکومت نے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کو اس کی عمر کا تعین کرنے کے لیے تحقیق کرنے کا حکم دیا تھا۔

ایف آئی اے کے مطابق جرم کے وقت شفقت حسین کی عمر 23 برس کے لگ بھگ تھی جب کہ مجرم اور دیگر انسانی حقوق کی تنظیموں کی طرف سے یہ موقف اختیار کیا گیا کہ 2001ء میں جرم کے وقت شفقت حسین کی عمر 14 سال کے قریب تھی اور اس کے مقدمے میں بچوں کے لیے رائج قوانین کو ملحوظ خاطر نہیں رکھا گیا۔

شفقت حسین پر الزام تھا کہ اس نے ایک پانچ سالہ بچے عمیر صدیقی کو تاوان کے لیے اغوا کے بعد قتل کر دیا تھا۔

اسے 2004ء میں موت کی سزا سنائی گئی جس کے خلاف کی گئی مجرم کی تمام اپیلیں مسترد ہو چکی ہیں۔

منگل کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں جسٹس اطہر من اللہ نے سماعت کرتے ہوئے کہ عمر کا تعین کرنے کا اخیتار عدالتی کمیشن کے پاس ہے اور جب تک اس بارے میں فیصلہ نہیں آ جاتا شفقت حسین کی پھانسی پر عملدرآمد نہیں کیا جائے گا۔

انھوں نے روزانہ کی بنیاد پر مقدمے کی سماعت شروع کرنے کا بھی کہا۔

ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کی چیئرپرسن زہرہ یوسف نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں اسلام آباد ہائی کورٹ کی ہدایت کو ایک احسن اقدام قرار دیا۔

گزشتہ دسمبر میں سزائے موت کے مجرموں کی پھانسیوں پر عملدرآمد پر سے پابندی ہٹائے جانے کے بعد شفقت حسین کو جنوری میں پھانسی دی جانی تھی لیکن انسانی حقوق کی تنظیموں کی طرف سے اس کی عمر کے معاملے پر اٹھائے جانے والے سوالات اور اس کے اہل خانہ کی طرف سے اس کا پیدائشی سرٹیفیکٹ منظر عام پر لائے جانے کے بعد اسے ملتوی کردیا گیا تھا۔

مجرم کی عمر کا تعین کرنے کے بعد 19 مارچ کو اسے تختہ دار پر لٹکانے کے لیے ڈیتھ وارنٹ جاری کیے گئے لیکن اس کی عمر کا تنازع بدستور موجود تھا جس پر پھانسی پر عملدرآمد 30 دن کے لیے موخر کرتے ہوئے چھ مئی کے لیے ڈیٹھ وارنٹ جاری کیے۔

XS
SM
MD
LG