رسائی کے لنکس

شفقت حسین کی پھانسی چوتھی بار ملتوی

  • عشرت سلیم

فائل فوٹو

فائل فوٹو

سزائے موت پر عملدرآمد پر عائد چھ سالہ پابندی کے خاتمے کے بعد اب تک لگ بھگ 140 مجرموں کو تختہ دار پر لٹکایا جا چکا ہے۔

پاکستان میں سزائے موت کے قیدی شفقت حسین کی پھانسی کو چوتھی بار ملتوی کر دیا گیا ہے۔

اس سے قبل شفقت حسین کی عمر پر تنازع کے باعث اس کی سزائے موت پر عملدرآمد کو تین مرتبہ ملتوی کیا گیا۔

ایک بچے کے اغوا اور قتل کے جرم میں سزا پانے والے شفقت حسین کی سزائے موت پر عمل درآمد کے لیے9جون کی تاریخ مقرر کی گئی تھی اور انہیں منگل کی صبح کراچی سینٹرل جیل میں تختہ دار پر لٹکایا جانا تھا۔

تاہم سپریم کورٹ نے شفقت حسین عمر سے متعلق درخواست کو سماعت کے لیے منظور کر لیا ہے، جس کی وجہ سے ایک مرتبہ پھر پھانسی کو موخر کیا گیا۔

اس درخواست کی سماعت عدالت عظمیٰ کا تین رکنی بینچ کر رہا ہے جسے بدھ سے شروع کی جائے گا۔

گزشتہ دسمبر میں پھانسیوں پر عائد پابندی ختم ہونے کے بعد شفقت حسین کی سزا پر 14 جنوری کو عملدرآمد کیا جانا تھا مگر یہ معاملہ انسانی حقوق کی مقامی و بین الاقوامی تنظیموں اور ان کے اہل خانہ کی طرف سے یہ موقف سامنے آنے کے بعد تنازع کا شکار ہو گیا کہ جرم اور سزا کے وقت شفقت حسین کی عمر تقریباً 14 سال تھی اور قانون کے مطابق نابالغ مجرموں کو سزائے موت نہیں دی جا سکتی۔

اطلاعات کے مطابق پانچ مختلف یورپی ملکوں کے سفارتکاروں نے پیر کو سندھ کے وزیراعلیٰ قائم علی شاہ سے ملاقات کر کے شفقت حسین کی پھانسی کو روکنے پر زور دیا تھا۔

اس کے علاوہ بین الاقوامی تنظیموں ’ایمنسٹی انٹرنیشنل‘ اور ’ریپریو‘ نے حکومت سے پھانسی رکوانے کی پرزور اپیل کی تھی۔

شفقت حسین کے وکلا کا یہ بھی مؤقف رہا ہے کہ اس سے تشدد کے ذریعے اعترافِ جرم کروایا گیا اور اس کے سابق وکیل نے کیس کی مناسب پیروی نہ کی جس کے باعث اس کی کم عمری کا معاملہ ذیلی عدالت کی سطح پر نہ اٹھایا گیا۔

پاکستان کا کہنا ہے کہ ملک کو درپیش مخصوص حالات میں قانون کے مطابق ان سزاوں پر عملدرآمد ناگزیر ہے۔ پاکستان کے وفاقی وزیر برائے دفاعی پیداوار نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے سزائے موت کے خلاف تنقید بے جا ہے۔

16 دسمبر 2014ء کو پشاور کے آرمی پبلک اسکول پر ہونے والے دہشت گرد حملے کے بعد سزائے موت پر عملدرآمد پر عائد چھ سالہ پابندی کے خاتمے کے بعد اب تک لگ بھگ 150 مجرموں کو تختہ دار پر لٹکایا جا چکا ہے۔

XS
SM
MD
LG