رسائی کے لنکس

پاکستان: مجرم کو مقتول کے ورثا کی معافی، اکرام الحق کی پھانسی 'ملتوی'


فائل فوٹو

فائل فوٹو

اکرام الحق نے 2001ء میں شورکوٹ کے علاقے میں نیئر عباس کو قتل کیا تھا اسے 2004ء میں سزائے موت سنائی گئی تھی۔

پاکستان میں سزائے موت کے ایک مجرم کی پھانسی پر عمل درآمد مقتول کے ورثا کی طرف سے معاف کیے جانے کے بعد ملتوی کر دیا گیا۔

کالعدم مذہبی تنظیم سے تعلق رکھنے والے اکرام الحق کو جمعرات کو علی الصبح لاہور کے قریب کوٹ لکھپت جیل میں پھانسی دی جانی تھی لیکن بدھ کو دیر گئے مقتول نیئر عباس کے ورثا نے تحریری صلح نامہ مجسٹریٹ کو جمع کروایا جس پر سزائے موت پر عملدرآمد ملتوی کر دیا گیا۔

اکرام الحق نے 2001ء میں شورکوٹ کے علاقے میں نیئرعباس کو قتل کیا تھا اسے 2004ء میں سزائے موت سنائی گئی تھی۔ مجرم کی طرف سے دائر کی گئی اپیلوں کو اعلیٰ عدالتوں نے مسترد کر دیا تھا جب کہ صدر پاکستان نے بھی اس کی رحم کی اپیل نا منظور کر دی تھی۔

اکرام الحق کے وکیل غلام مصطفیٰ نے صحافیوں کو بتایا کہ مقتول کے ورثا نے ان کے موکل کو معاف کر دیا اور اپنے بیانات مجسٹریٹ کے سامنے ریکارڈ بھی کرائے جس پر پھانسی پر عملدرآمد ملتوی کیا گیا۔

وکیل کے بقول اب یہ معاملہ دوبارہ ٹرائل کورٹ میں جائے گا۔

گزشتہ ماہ وزیراعظم نواز شریف کی طرف سے ملک کی جیلوں میں قید دہشت گردی کے جرم میں سزائے موت پانے قیدیوں کی سزاؤں پر عملدرآمد پر چھ سال سے عائد پابندی ختم کیے جانے کے بعد اب تک نو لوگوں کو پھانسی دی جا چکی ہے۔

بدھ کی صبح ملتان کی سنٹرل جیل میں دو مجرموں کو تختہ دار پر لٹکایا گیا۔ علی احمد عرف شیش ناک اور غلام شبیر کا تعلق بھی ایک کالعدم مذہبی سے تنظیم تھا اور انھیں 1998ء میں مختلف واقعات میں ایک پولیس افسر سمیت پانچ افراد کو قتل کرنے کے جرم میں سزائے موت سنائی گئی تھی۔

اس سے قبل پیر کو سپریم کورٹ اور لاہور کی عدالت عالیہ نے دو مختلف مقدمات میں انسداد دہشت گردی کی عدالتوں کی طرف سے پانچ افراد کو سنائی گئی موت کی سزا کو کالعدم قرار دے دیا تھا۔

XS
SM
MD
LG