رسائی کے لنکس

پاکستان میں رائج قوانین کے مطابق 27 مختلف جرائم میں موت کی سزا دی جا سکتی ہے۔

پاکستان میں دو سال قبل پشاور کے آرمی پبلک اسکول پر دہشت گرد حملے کے بعد حکومت نے سزائے موت پر عملدرآمد پر چھ سال سے عائد پابندی ختم کر دی تھی جس کے بعد اب تک 419 مجرموں کو تختہ دار پر لٹکایا جا چکا ہے۔

تمام تر مقامی و بین الاقوامی مخالفت کے باوجود حکومت کا موقف رہا ہے کہ قانون کے مطابق دی گئی سخت سزاؤں پر عملدرآمد دہشت گردی کے خاتمے اور امن و امان کو قائم کرنے کے لیے ناگزیر ہے۔

اولاً پھانسیوں پر عائد پابندی کے خاتمے کا اطلاق دہشت گردی میں ملوث مجرموں پر ہوا تھا لیکن صرف تین ماہ بعد ہی حکومت نے اس کا دائرہ دیگر جرائم میں سزا پانے والے مجرموں تک بڑھا دیا۔

لیکن قیدیوں کے حقوق کے لیے سرگرم ایک غیر سرکاری تنظیم "جسٹس پراجیکٹ پاکستان" کے مطابق اب تک دی گئی پھانسیوں میں سے صرف 16 فیصد مجرم ہی دہشت گردی میں ملوث تھے۔

ایک بیان میں تنظیم کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کی دفعات کے تحت بنائے گئے مقدمات میں سے 88 فیصد ایسے تھے جن میں مجرموں کا کسی دہشت گرد تنظیم سے تعلق نہیں تھا یا پھر یہ مقدمات ایسے تھے جو کہ صرف دہشت گردی کی صرف مناسب تعریف پر پورے اترتے تھے۔

تاہم سینیٹ میں قائد ایوان راجہ ظفر الحق پھانسیوں سے متعلق انسانی حقوق کی تنظیموں کے بیانات اور اعداد و شمار سے متفق دکھائی نہیں دیتے۔

اتوار کو وائس آف امریکہ سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ انسداد دہشت گردی کے قوانین کے تحت درج ہونے والے مقدمات میں سزا پانے والے مجرموں کی سزاؤں پر عملدرآمد کیا جا رہا ہے اور یہ ملک کو درپیش مخصوص حالات میں کیا گیا ایک ضروری فیصلہ تھا۔

پاکستان میں رائج قوانین کے مطابق 27 مختلف جرائم میں موت کی سزا دی جا سکتی ہے۔

انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں کے علاوہ یورپی یونین پر بھی پاکستانی حکومت سے مطالبہ کرتی آئی ہے کہ پھانسیوں پر پابندی عائد کی جائے اور موت کی سزا کو ختم کیا جائے۔

XS
SM
MD
LG