رسائی کے لنکس

دہری شہریت والے سرکاری افسروں پر پابندی کا بل تیار


(فائل فوٹو)

(فائل فوٹو)

حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) کے قانون ساز رانا افضل خان کہتے ہیں کہ اراکین پارلیمان سے زیادہ اختیارات بیوروکریٹس کے پاس ہیں اور ’’ان کی وفاداری ایک ملک کے ساتھ ہونی چاہیئے۔‘‘

پاکستان میں حزب اختلاف کی جماعت عوامی نیشنل پارٹی کے قانون ساز الیاس بلور نے کہا ہے کہ پارلیمان کے ایوان بالا یعنی سینیٹ میں عنقریب ایک ترمیمی بل منظور کروایا جائے گا جس کے تحت دہری شہریت رکھنے والے پاکستانیوں کا سرکاری محکموں میں اعلیٰ منصب پر تقرر نہیں کیا جا سکے گا۔

الیاس بلور کے مطابق سول سرونٹ ایکٹ (ترمیم) نامی مسودہ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی پہلے ہی متفقہ طور پر منظور کر چکی ہے۔

پاکستانی آئین کے تحت اس نوعیت کی پابندی کا اطلاق فی الوقت صرف قانون ساز اسمبلیوں کی رکنیت کے امیدواروں پر ہوتا ہے۔

ملک میں سرمایہ کاری کرنے کے تناظر میں وزیر اعظم نواز شریف نے حالیہ بیانات میں دہری شہریت اور سمندر پار پاکستانیوں سے متعلق ’’امتیازی قوانین‘‘ میں ترمیم پر زور دیا تھا۔

حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قانون ساز اور سمندر پار پاکستانیوں کے امور پر قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کے رکن رانا محمد افضل خان نے وائس آف امریکہ سے پیر کو گفتگو میں اس بل کے بارے میں کہا کہ یہ کوئی ’’انوکھا‘‘ قانون نہیں ہوگا۔

’’اراکین پارلیمان سے زیادہ اختیارات ہمارے بیوروکریٹس کے پاس ہیں، جو ہمارے سفیر بنتے ہیں، ہمارے لیے معاہدوں پر مذاکرات کرتے ہیں، جو ہمارے لیے قرضے لینے جاتے ہیں۔ کم از کم ان کی وفاداری، حلف ایک ملک کے ساتھ ہونا چاہیئے اور یہی قانون دوسرے ملکوں میں بھی ہیں۔‘‘

پاکستان پیپلز پارٹی کی سابقہ حکومت میں سپریم کورٹ نے دہری شہریت رکھنے والے کئی قانون سازوں کی پارلیمانی رکنیت کو منسوخ کر دیا تھا اور اسی کے پیش نظر اس وقت کے وزیر داخلہ رحمان ملک نے اپنی برطانوی شہریت ترک کر دی تھی۔

اقتصادی ماہر اور سابق اسپیشل سیکرٹری برائے خزانہ اشفاق حسن کا کہنا ہے کہ مجوزہ قانون کی منظوری سے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی طرف سے اپنے وطن میں ممکنہ سرمایہ کاری پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔

’’یہ ردعمل ہے، کیونکہ دہری شہریت کے قانون نے سیاست دانوں کو متاثر کیا تھا۔ کوئی وزیر نا بن سکا، کئی کی رکنیت ختم کر دی گئی ... تو کیونکہ تمام جماعتیں اس سے متاثر ہوئیں اس لیے اس پر اتفاق نظر آیا ہے کہ صرف سیاست دان ہی کیوں؟ بیوروکٹس کیوں نہیں؟‘‘

اسلام آباد کی قائد اعظم یونیورسٹی کے نیشنل انسٹیٹیوٹ آف پاکستان اسٹڈیز کے اسسٹنٹ پروفیسر عاصم سجاد کہتے ہیں کہ اس مجوزہ قانون کا مقصد بظاہر سیاست دانوں کی طرف سے ’’حب الوطنی‘‘ کا اظہار ہے۔

’’ہمیں اس بات کا جائزہ لینا چاہیئے کہ ہم نیشنلزم کیوں نا پیدا کر سکے جس کی خواہش کی جا رہی ہے باوجود اس کے کہ ریاست اور اس کے اداروں نے بہت کوشش کی۔ ہمیں اس ناکامی کو نا صرف دیکھنا ہوگا بلکہ تسلیم بھی کرنا ہوگا کہ ان کوششوں کی مزاحمت بھی ہوئی۔‘‘

بروقت قانون سازی اور انتظامات نا ہونے کی وجہ سے الیکشن کمیشن کے اعداد و شمار کے مطابق تقریباً 45 لاکھ تصدیق شدہ پاکستانی ووٹر گزشتہ عام انتخابات میں اپنا حق رائے دہی بھی استعمال نہیں کر سکے تھے۔
XS
SM
MD
LG