رسائی کے لنکس

لاہور: خودکش بم دھماکے میں 10 ہلاک

  • افضل رحمن

پولیس اور ریسکیو اہلکار لاھور میں بم دھماکے کے بعد ایک کار کا معائنہ کر رہے ہیں۔ 25 جنوری، 2011

پولیس اور ریسکیو اہلکار لاھور میں بم دھماکے کے بعد ایک کار کا معائنہ کر رہے ہیں۔ 25 جنوری، 2011

لاہور کے ایک گنجان آباد علاقے میں منگل کی شام ہونے والے ایک طاقتور بم دھماکے میں کم از کم 10 افراد ہلاک ہو گئے۔ مرنے والوں میں ایک خاتون اور کئی پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔

لاہور کے ایس پی رانا فیصل نے مقامی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھاٹی گیٹ کے قریب ایک پولیس چیک پوسٹ پر کیا گیا یہ حملہ خودکش بمبار کی کارروائی تھی۔ انھوں نے بتایا کہ مشتبہ حملہ آور کو پولیس اہلکاروں نے جونہی تلاشی کے لیے روکا تو اُس نے اپنے جسم سے بندھے بارود میں دھماکا کر دیا۔

میو ہسپتال کے ایم ایس ڈاکٹر زاہد نے صحافیوں کو بتایا کہ اس واقعہ میں کم از کم 52 افراد زخمی ہوئے ہیں جن میں سے 15 کی حالت تشویش ناک ہے۔
زخمیوں میں پولیس اہلکاروں کے علاوہ عورتیں اور بچے بھی شامل ہیں۔

پولیس کی ابتدائی تحقیقات کے مطابق حملہ آور کی عمر تقریباً 14سال تھی تاہم یہ واضح نہیں ہو سکا ہے کہ اُس کا ہدف قریب ہی اقلیتی شعیہ مسلمان برادری کا ماتمی جلوس تھا یا پھر داتا دربار میں جاری سالانہ عرس کی اختتامی تقریب۔

لاہور کے ضلعی رابطہ افسر احد خان چیمہ نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ ماتمی جلوس میں شامل ہونے والوں کی تلاشی کے لیے یہ چیک پوسٹ قائم کی گئی تھی تاہم اُن کے مطابق جلوس کا راستہ اس چوکی سے کافی دور تھا ۔

گذشتہ سال جولائی میں داتا دربار میں یکے بعد دیگرے دو خودکش بم حملوں میں 40 سے زائد زائرین ہلاک اور 200 زخمی ہو گئے تھے۔

XS
SM
MD
LG