رسائی کے لنکس

ممبئی کی ”ہفتہ وصولی“ اور کراچی کی ”بھتہ وصولی“اب ایسے الفاظ ہیں جن کے معنی ہرکوئی جانتا ہے۔ ”ہفتہ وصولی“ کو شہرت ملی بالی ووڈ فلموں سے تو ”بھتہ وصولی“ کو کراچی میں آئے دن ہونے والے قتل و غارت گری کے واقعات نے ’پالولر‘ بنایا۔

فلموں میں اکثر یہ دکھایا جاتا تھا کہ انڈرورلڈ والے مختلف تاجروں اور پیسے والے خوشحال افراد سے فون پر ”پیٹی‘ دو پیٹی “یا ”کھوکھا، دو کھوکھا“ رقم مانگتے تھے یعنی لاکھوں اور کروڑوں کی ہفتہ وصولی۔ ورنہ جان کی دھمکی پرچی کی صورت میں ساتھ آتی ہے۔ اب کچھ یہی حال کراچی کا بھی ہے۔ یہاں بھی تاجروں اور مخیر افراد سے ہزاروں سے لیکر لاکھوں روپے تک کی بھتہ وصولی کی جاتی ہے۔

کراچی میں بدامنی کی صورتحال یہ ہے کہ گزشتہ ایک ماہ کے دوران بھتہ وصولی کی رقم بڑھتے بڑھتے تقریباً ڈیڑھ کروڑ یومیہ ہوگئی ہے۔یہ اعدادوشمار سندھ پولیس کی اسپیشل برانچ کے فراہم کردہ ہیں۔اس حوالے سے باقاعدہ ایک تحریری رپورٹ جاری کی گئی ہے جس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ بھتہ خوری دن بدن بڑھ رہی ہے ۔

قابل غور پہلو یہ کہ پاکستان کا پرنٹ میڈیا ہو یا الیکٹرونک میڈیا اس میں تقریباً ہر روز بھتہ خوری میں اضافے کی خبریں اور واقعات پیش ہورہے ہیں ۔ ٹی وی پروگرامز میں واضح طور پر یہ دکھایاجارہا ہے کہ تاجروں کو بھتے کی پرچیوں کے ساتھ علامتی طور پر بندوق کی گولیاں بھی بھیجی جاتی ہیں۔

اس بھتہ خوری کے سبب شہر میں ٹارگٹ کلنگ بڑھ رہی ہیں۔ بھتے سے انکاری تاجروں کے اغواء کی وارداتوں میں بھی مسلسل اضافہ ہورہا ہے ۔ناجائز اسلحہ کے انبار لگ رہے ہیں۔ گینگ وار عام ہورہی ہے۔ پولیس اور قانون کا احترام ختم ہونے لگا ہے ۔ اسٹریٹ جرائم بڑھ رہے ہیں۔ایک بھتہ خور گروہ دوسرے گروہ کو برداشت کرنے کے لئے تیار نہیں ۔۔نتیجہ دونوں گروپوں میں خونریزی ، تصادم، آتشیں اسلحہ کا استعمال اور درجنوں افراد کی موت۔

ایک دلچسپ امر یہ ہے کہ مہنگائی کی طرح بھتہ خوری کے ”ریٹس“ بھی بڑھ گئے ہیں۔ پہلے جس تاجر سے 10لاکھ روپے بھتہ وصول کیا جاتاتھا اب وہی تاجر 25سے 30لاکھ بھتہ دینے پر مجبور ہے۔

بھتہ خوری کی واردات سب سے زیادہ شہر کے پرانے علاقوں میں ہوتی ہیں کیوں کہ شہر کے سب سے زیادہ تھوک بازار اسی علاقے میں واقع ہیں۔ دوسر ے نمبر پر موبائل فون مارکیٹس کا نمبر ہے جو شہر کے متعدد علاقوں میں واقعے ہیں ۔ شہر میں سب سے زیادہ رش انہی مارکٹیس میں ہوتا ہے لہذا بھتہ وصول کرنے والوں کی نظر میں موبائل مارکیٹس کے دکاندار سب سے زیادہ ’منافع بخش‘ ہیں۔ اس کے بعد ہوٹل مالکان، ٹرانسپورٹرز، بلڈرز، تعمیراتی کمپنیاں اورہر قسم کے دکاندار آتے ہیں۔

چونکہ رمضان قریب آرہا ہے لہذا رمضان کو بھتہ وصولی کی غرض سے سب سے منافع بخش سیزن تصور کیا جاتا ہے ۔ رمضان میں ہر مارکیٹ میں ہر قسم کے پتھارے اور خونچے لگتے ہیں لہذا ان افراد سے ’وصولی کا کام‘بڑھ جاتا ہے۔

اس مد میں سب سے اہم سوال یہ ہے کہ بھتہ خور آخر کون لوگ ہیں؟ اور پولیس ان بھتہ خوروں سے کیوں نہیں نمٹی؟ اس سوال کا آسان سا جواب یہ ہے کہ بھتہ خور دراصل وہ جرائم پیشہ افراد ہیں جنہوں نے مختلف گروپ بنائے ہوئے ہیں اور جن کا پیشہ ہی بھتہ وصول کرنا ہے۔ ان میں سے بعض گروپس کو سیاسی حمایت بھی حاصل ہے۔ اس لئے پولیس بھی اکثر اوقات ان پر ہاتھ ڈالتے ہوئے ڈرتی ہے۔

ایسا نہیں ہے کہ پولیس نے بھتہ خوروں کے خلاف آپریشن نہ کیا ہو بلکہ بیشتر ایسی مثالیں ہیں جن میں پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ان کے خلاف کریک ڈاوٴن کیا ہے مگر بدقسمتی سے یہ گروپ پولیس سے زیادہ طاقتور ہوگئے ہیں ۔اس کی حالیہ مثال آٹھ دنوں تک چلنے والا لیاری آپریشن ہے ۔

کچھ مبصرین کے مطابق اس ناکام آپریشن سے ایک جانب تو بھتہ خوری بڑھ گئی ہے تو دوسری جانب اس کے ’نرخ‘ بھی بڑھ گئے ہیں۔ ساتھ میں یہ تاثر بھی زور پکڑ گیا ہے کہ پولیس بھتہ مافیہ کے آگے کمزور ہے اور اس کے خلاف کچھ نہیں کرسکتی۔

لیاری آپریشن کی ناکامی کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوا ہے کہ جرائم پیشہ افراد جو پہلے لیاری تک محدود سمجھے جاتے تھے وہ اب بہت تیزی کے ساتھ شہر کے دوسرے علاقوں تک پھیل گئے ہیں۔ اتوار 10جون کو ہاکس بے کے قریب جرائم پیشہ افراد کے دو گروپوں میں ہونے والا بدترین تصادم اس بات کی غمازی کرتا ہے۔ اس واقعے کے نتیجے میں 10افراد موت کے گھاٹ اتار دیئے گئے۔

ایک بدنصیبی یہ بھی ہے کہ ملک میں بھتہ خوری کے خلاف باقاعدہ قانون سازی ابھی تک نہیں ہوسکی ہے۔ وزارت داخلہ اور خود موجودہ مشیر داخلہ رحمن ملک نے دوماہ پہلے یہ کہا تھا کہ یاتو باقاعدہ قانون سازی کی جائے گی یا پھر ایک آرڈیننس کے ذریعے اس قانون کو سامنے لایا جائے گا تاکہ بھتہ خوری اور وصولی کے واقعات رک سکیں لیکن ابھی تک یہ وعدہ وفا نہیں ہوسکا ہے ۔

بھتہ خور کون ہیں؟

بھتہ خور وہ افراد ہیں جو شروع میں چھوٹے موٹے جرائم کرتے ہیں اور ان جرائم کے عوض سزا سے بچے رہنے کے سبب بدقسمتی سے بڑے کرائم کے لئے ان کے حوصلے بڑھ جاتے ہیں۔ یہ لوگ مختلف طریقوں سے امیرلوگوں کو کسی نہ کسی بہانے مجبور کرکے ان سے بھتہ وصول کرتے ہیں۔ یہ افراد کہیں کسی کو اپنا تعلق کسی سیاسی جماعت یا گروہ سے بتاتے ہیں تو کسی کو اپنا تعلق انڈرورلڈ ڈون سے بتاتے ہیں۔ ٹیلی فون پر یا روبرو آکر تاجروں سے بھتہ وصولی ان کا مقصد ہوتا ہے ۔

پولیس کی مشکل

کراچی شہر کی آبادی تقریباً 2کروڑ کی حدووں کو چھورہی ہے۔ اتنے بڑے لوگوں کے جنگل میں پولیس کے لئے یہ پتہ لگاناانتہائی مشکل ہوتا ہے کہ اصل بھتہ مانگنے والا کون ہے اور اس کا تعلق کس سے ہے۔

ایک رپورٹ کے مطابق ایسی تمام شکایات جن کے ساتھ کوئی بااثر شخصیت نہ ہو ضائع ہو جاتی ہیں کیونکہ فون پر بھتہ مانگنے والے کا پتہ ہی نہیں چل پاتا۔عام طور پر کال کرنے والا شخص ایک ہی نمبر سے بیس تاجروں کو فون کر کے بھتے کا مطالبہ کرتا ہے لیکن کال کی تصدیق کاعمل مشکل ہوتا ہے۔

پولیس کو کال ٹریس کرنے کا اختیار نہیں اور کال ٹریس کرنے کے لئے اجازت لینے کا مرحلہ بہت طویل ہے جس میں ایس ایچ او سے لیکر ایس ایس پی، ڈی آئی جی ایڈیشنل آئی جی سب شامل ہوتے ہیں۔ پولیس کا مرحلہ طے ہوبھی جائے تو درخواست انٹیلی جنس بیورو کو بھیجی جاتی ہے جو انٹر سروسز ایجنسی سے مدد کرنے کی درخواست کرتی ہے۔سرکاری ضابطوں اور قواعد کے مطابق کالز کا پتا لگانے میں تین ماہ لگ جاتے ہیں جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ درخواست میں شامل فون نمبر ز کام کے نہیں رہتے۔

بھتہ خوری کیوں؟

جرائم پیشہ افراد بھتہ وصولی اپنی مالی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے کرتے ہیں ۔ بعض مبصرین اور شہر کے پرانے باسیوں کا کہنا ہے کہ کراچی میں موجود ہر سیاسی اور قوم پرست پارٹی بھتہ خوری کو اپنے وسائل شمار کرتی ہے۔

بھتہ کیوں دیا جاتا ہے؟

بھتہ دینے کے سیدھے سے معنی خود کو پروٹیکشن دینا یعنی خود کی حفاظت ہے۔ کاروبار چلانے اور کھانے کمانے کے لئے تاجروں سے لیکر دکاندار تک سب ’روزانہ ،ہفتہ واریا ماہانہ ‘بنیادوں پر بھتہ دیتے ہیں ۔ یہ لوگ بھتہ دے کر خود کو بلیک میلنگ سے محفوظ سمجھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ بھتہ خوری کا چلن بڑھ رہا ہے، اس کے ریٹ بڑھ رہے ہیں۔

بھتہ خوروں کا نیٹ ورک

کراچی میں بھتہ خوروں کا باقاعدہ نیٹ ورک ہے جو متعلقہ فر د کے ملازمین، رشتے داروں، محافظوں اور ڈرائیورز سے لالچ یا زور زبردستی معلومات حاصل کرتا ہے ۔ بھتے کے تقاضے کے لئے یا تو موبائل فو ن استعما ل کیا جاتا ہے یا پرچیاں بھیجی جاتیں ہیں یا پھر زبانی پیغام کے لئے موٹرسائیکل سوار لڑکوں کی خدمات حاصل کی جاتی ہیں۔

بھتہ مانگنے والے گروپوں کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔ایک گروپ کو بھتہ دے کر فارغ ہوجانے کا مطلب یہ نہیں کہ کوئی دوسرا آپ سے بھتہ نہیں مانگے گا۔کچھ علاقوں میں تو باقاعدہ حد بندی کر کے علاقے تقسیم کر لئے گئے ہیں ۔

حیران کن امر

بھتہ خوری روکنے کے لئے انسداد بھتہ خوری سیل بنایا گیا ے مگرحیرت انگیز طور پر سیل کو بہت ہی کم شکایات موصول ہوئیں۔اس کی بنیادی وجہ شاید یہ ہے کہ بھتہ خور ی سے متاثرہ بیشتر افراد اپنے ذاتی ذرائع کواستعمال کرتے ہوئے بھتہ خورو ں سے نجات حاصل کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔

بھتہ خوری کے خلاف بھرپور احتجاج اور آواز اٹھانے کے باوجود کراچی پولیس کے سربراہ اختر حسین گورچانی کو دس دنوں میں صرف پندرہ شکایات موصول ہوئیں۔ان کا کہنا ہے ”’میرا خیال تھا کہ بھتہ خوری اپنی انتہا کو پہنچ گئی ہے لیکن انسداد بھتہ خوری سیل میں آنے والی شکایتوں کی انتہائی کم تعداد نے مجھے کنفیوزکر دیا ہے۔‘ گورچانی کے مطابق” یا تو پولیس پر لوگوں کااعتماد ختم ہو گیا ہے یا پھر اس کی کوئی اور وجہ ہے۔“

کرائم انویسٹیگیشن ڈپارٹمنٹ کے ایس ایس پی فیاض خان کے مطابق جرائم پیشہ گروپوں نے شہر کی صورتحال کو پیچیدہ کردیا ہے۔اپنے مطالبات کو منوانے کے لئے یہ گروپس بااثر سیاسی پارٹیوں کا نام استعمال کرتے ہیں اور بھتہ دینے سے انکار کرنے والوں کے خلاف تشدد کا راستہ اختیار کرتے ہیں۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG