رسائی کے لنکس

’ایف سولہ‘ طیاروں سے انسداد دہشت گردی میں مدد ملے گی: پاکستان


فائل فوٹو

فائل فوٹو

وزارت خارجہ کے ترجمان نفیس ذکریا نے کہا کہ امریکہ کی طرف سے بھی بار ہا یہ کہا گیا ہے کہ’ایف سولہ‘ طیاروں کی فراہمی اہداف کو درست نشانہ بنانے کی پاکستانی صلاحیت میں اضافہ کرنے کے لیے ہے۔

پاکستان کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ امریکہ کی طرف سے مجوزہ طور پر ملنے والے ’ایف 16‘ لڑاکا طیارے دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی کوششوں میں مدد گار ثابت ہوں گے۔

وائس آف امریکہ کی طرف سے پوچھے گئے ایک سوال کے تحریری جواب میں وزارت خارجہ کے ترجمان نفیس ذکریا نے کہا کہ امریکہ کی طرف سے بھی بار ہا یہ کہا گیا ہے کہ’ایف سولہ‘ طیاروں کی فراہمی اہداف کو درست نشانہ بنانے کی پاکستانی صلاحیت میں اضافہ کرنے کے لیے ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ طیاروں کی فراہمی کسی دوسرے ملک کے لیے تشویش کا باعث نہیں ہونی چاہیئے۔

ترجمان نفیس ذکریا نے کہا کہ دہشت گردی ایک عالمی معاملہ ہے جس سے نمٹنے کے لیے ممالک کے درمیان تعاون کی ضرورت ہے نا کہ مخالفت کی۔

اُنھوں نے کہا کہ پاکستان انسداد دہشت گردی کی تمام کوششوں کو خوش آئند قرار دیتا ہے، ترجمان کا کہنا تھا کہ پاکستان دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا ملک ہے اور دہشت گردی کے واقعات میں اس کے 60 ہزار افراد بشمول پانچ ہزار سے زائد فوجی اپنی جانیں دے چکے ہیں۔

واضح رہے کہ پاکستان اندرون ملک دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مصروف ہے اور ملک کے قبائلی علاقوں میں زمینی فوج کے علاوہ فضائیہ کی مدد سے بھی دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔

اُدھر امریکہ کی وزارت خارجہ کی طرف سے پاکستان کو ایف سولہ لڑاکا طیاروں کی فروخت کا دفاع کیا گیا ہے۔ واشنگٹن میں پاکستانی سفارت خانے نے بھی اوباما انتظامیہ کی طرف سے ایف سولہ طیاروں کی پاکستان کو مجوزہ فروخت کے دفاع کو سراہا ہے۔

رواں ماہ ہی اوباما انتظامیہ نے پاکستان کو تقریباً 70 کروڑ ڈالر مالیت کے آٹھ ایف سولہ طیارے اور دیگر فوجی سازو سامان فروخت کرنے کا کہا تھا اور امریکی کانگریس کے لیے اس سودے کی توثیق کے لیے 30 دن کا وقت ہے۔

پاکستان اور امریکہ کے تعلقات میں حالیہ برسوں میں نمایاں بہتری آئی ہے اور دونوں ملکوں کے درمیان چھٹے وزارتی سطح کے اسٹریٹیجک مذاکرات 29 فروری کو واشنگٹن میں ہونے جا رہے ہیں۔

ان مذاکرات میں پاکستانی وفد کی سربراہی مشیر خارجہ سرتاج عزیز اور امریکی وفد کی قیادت وزیر خارجہ جان کیری کریں گے۔

اسٹریٹیجک مذاکرات میں معیشت و اقتصادیات، توانائی، تعلیم و سائنس و ٹیکنالوجی، نفاذ قانون و انسداد دہشت گردی، سلامتی و اسٹریٹیجک استحکام، جوہری عدم پھیلاؤ اور دفاع کے شعبوں میں تعاون پر بات چیت ہو گی۔

دونوں ملکوں کے درمیان اگرچہ طویل المدت شراکت داری کے اسٹریٹیجک مذاکرات کا آغاز 2010ء میں ہوا تھا لیکن 2011ء میں پاکستان کے شہر ایبٹ آباد میں القاعدہ کے روپوش رہنما اسامہ بن لادن کے خلاف امریکی اسپیشل فورسز کی کارروائی کے بعد دونوں ملکوں میں تناؤ کے باعث یہ عمل تعطل کا شکار ہو گیا تھا۔

تاہم 2014ء میں یہ سلسلہ دوباہ بحال ہوا۔

XS
SM
MD
LG