رسائی کے لنکس

9/11 کے پندرہ سال بعد بھی پاکستان کو مختلف چیلنجز کا سامنا


فائل فوٹو

فائل فوٹو

اقتصادی امور کے ماہر اور سابق مشیر خزانہ سلمان شاہ کہتے ہیں کہ پاکستان کو اس جنگ میں شریک ہونے سے وہ فوائد حاصل نہیں ہو سکے جو کہ صف اول کے اتحادیوں کو حاصل ہونے چاہیے تھے۔

امریکہ میں 11 ستمبر 2001ء کو ہوئے دہشت گرد حملوں کو اتوار کو 15 سال مکمل ہو رہے ہیں لیکن اس کے بعد شروع کی گئی انسداد دہشت گردی کی جنگ کے اثرات اب بھی نہ صرف عالمی سطح پر بلکہ اس لڑائی میں ہراول دستے کا کردار ادا کرنے والے ملک پاکستان میں بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔

15 سال قبل القاعدہ سے منسلک دہشت گردوں نے امریکہ میں چار طیاروں کو اغوا کر کے دو کو نیویارک کے ورلڈ ٹریڈ سنیٹر سے ٹکرایا اور ایک سے پینٹاگان کی عمارت کو نشانہ بنایا جب کہ ایک اپنے ہدف پر پہنچنے سے پہلے ہی گر کر تباہ ہوگیا تھا۔

ان حملوں میں تین ہزار سے زائد افراد مارے گئے اور امریکہ اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر افغانستان میں موجود القاعدہ کی قیادت کو ختم کرنے کے لیے اس ملک میں داخل ہوا۔

پاکستان نے بھی اُس وقت انسداد دہشت گردی کی اس جنگ میں شریک ہونے کا فیصلہ کیا۔ اس وقت کے وفاقی سیکرٹری داخلہ تسنیم نورانی نے اتوار کو وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ پاکستان کو جنگ میں پوری طرح سے شریک ہونے سے قبل اس کے مضمرات کو دیکھتے ہوئے فیصلہ کرنا چاہیے تھا۔

"ہم امریکہ کے ساتھی تصور کیے جانے لگے کُھلے تو یہاں پر جو نفرت (امریکہ سے متعلق) جن لوگوں میں تھی تو ان کی طرف سے شامت حکومت پاکستان اور یہاں کے معصوم لوگوں کو جھیلنی پڑی۔۔۔جو اس وقت پاکستان کی صورت حال ہے پندرہ سال بعد وہ غالباً اس سے بدتر شاید نا ہو سکتی کیونکہ ہمارے ہاں جو دہشت گردی ہے اس کو ایک وجہ مل گئی کہ امریکہ جو ہے دشمن ہے ہمارا اور اس میں حکومت پاکستان بھی پوری طرح شامل پایا ہے۔"

اس جنگ میں ایک دہائی سے زائد عرصے تک شامل رہنے والے ملک پاکستان کو اندرونی سطح پر بھی بدترین دہشت گردی کا سامنا رہا اور سکیورٹی فورسز سمیت اس کے ہزاروں شہری موت کا شکار ہوئے جب کہ معیشت کو بھی شدید نقصان پہنچا۔

اقتصادی امور کے ماہر اور سابق مشیر خزانہ سلمان شاہ کہتے ہیں کہ پاکستان کو اس جنگ میں شریک ہونے سے وہ فوائد حاصل نہیں ہو سکے جو کہ صف اول کے اتحادیوں کو حاصل ہونے چاہیے تھے۔

"ہونا تو یہ چاہیئے تھا کہ یہاں اقتصادی ترقی ہوتی یہاں پر ملازمت کے مواقع ہوتے اُمید ہونی چاہیئے تھی تو ہمارے ساتھ دنیا نے اس قسم کا کوئی تعاون نہیں کیا کوئی آزادانہ تجارتی کے معاہدے نظر نہیں آتے کوئی دوطرفہ سرمایہ کاری نظر نہیں آتی جب یورپ اور مشرق بعید میں اس طرح کے واقعات ہوئے تھے تو اقتصادیات پر بڑی توجہ دی گئی تھی ان علاقوں پر۔"

افغانستان سے تمام بین الاقوامی افواج اپنا لڑاکا مشن مکمل کر کے 2014ء کے اواخر میں اپنے وطن واپس جا چکی ہیں اب ایک معاہدے کے تحت لگ بھگ 12000 بین الاقوامی فوجی یہاں مقامی فورسز کی تربیت اور انسداد دہشت گردی میں معاونت کے لیے تعینات ہیں۔

گو کہ دہشت گرد تنظیم القاعدہ اب پہلے جیسے منظم تو دکھائی نہیں دیتی لیکن دو سال قبل ہی داعش نامی شدت پسند گروپ نے مشرق وسطیٰ میں سر اٹھایا اور اسے عالمی امن کے خطرہ تصور کرتے ہوئے امریکہ سمیت مختلف ممالک اس کے خلاف کارروائیوں میں مصروف ہیں۔

پاکستان نے جون 2014ء سے ملک میں دہشت گردوں کے خلاف بھرپور کارروائی کا آغاز کیا تھا جس کے بعد یہاں امن و امان کی صورتحال ماضی کی نسبت بہتر ہوئی لیکن اب بھی تشدد کے مختلف واقعات ملک کے مختلف حصوں میں رونما ہوتے رہتے ہیں جنہیں حکام دہشت گردوں کے خلاف سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں کا ردعمل قرار دیتے ہوئے اس عزم کا اظہار کرتے ہیں کہ آخری دہشت گرد کے خاتمے تک یہ کارروائیاں جاری رہیں گی۔

XS
SM
MD
LG