رسائی کے لنکس

جعلی اسناد کی چھان بین کے نئے طریقہ کار میں درپیش رکاوٹیں

  • حسن سید

پاکستان کی قومی اسمبلی

پاکستان کی قومی اسمبلی

مبصرین کا کہنا ہے کہ تمام تر نیک نیتی کے باوجود بھی جعلی تعلیمی اسناد رکھنے والوں کے خلاف کارروائی اس لیے تعطل کا شکار ہو سکتی ہے کیوں کہ اٹھارویں آئینی ترمیم کے بعد الیکشن کمیشن غیر فعال ہو چکا ہے ۔

الیکشن کمیشن آف پاکستان کی طرف سے قانون سازوں کی ڈگریوں کی جانچ پڑتال کے عمل کو آگے بڑھانے اور دھوکہ دہی کے مرتکب ارکان کو سزا دلوانے کے لیے جس نئے لائحہ عمل کا اعلان کیا گیا ہے اسے اگرچہ ایک مثبت اقدام قرار دیا جا رہا ہے لیکن مبصرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ تمام تر نیک نیتی کے باوجود بھی جعلی تعلیمی اسناد رکھنے والوں کے خلاف کارروائی اس لیے تعطل کا شکار ہو سکتی ہے کیوں کہ اٹھارویں آئینی ترمیم کے بعد الیکشن کمیشن غیر فعال ہو چکا ہے ۔

کمیشن کے ترجمان اشتیاق احمد خان نے گزشتہ روز نیوز کانفرنس کے دوران خود یہ واضح کیا تھا کہ اس وقت اگرچہ چیف الیکشن کمشنر موجود ہیں لیکن اٹھارویں ترمیم کے بعد سے کمیشن کا اپنا وجود نہیں ہے اور یہ تب تشکیل پائے گا جب چار ریٹائرڈ ججوں کا اس کے ممبران کے طور پر تقرر کیا جائے گا۔

وائس آف امریکہ سے انٹرویو میں کمیشن کے سابق ترجمان اور تجزیہ کار کنوردلشاد نے کہا کہ سپریم کورٹ نے اپنے حالیہ فیصلے میں جعلی اسناد رکھنے والوں کے خلاف کارروائی کے احکامات چیف الیکشن کمیشنر کو نہیں بلکہ کمیشن کو جاری کیے تھے اور اب کیوں کہ کمیشن موجود نہیں ہے تو آئندہ کسی بھی فوری کارروائی میں قانونی رکاوٹوں اور پیچیدگیوں کا سامنا ہو سکتا ہے۔

آئین کی رو سے کمیشن کے چار ممبران کے تقرر کے لیے سپیکر قومی اسمبلی کی طرف سے ایک پارلیمانی کمیٹی تشکیل دی جائے گی جس میں آدھے ارکان حکومتی اور آدھے اپوزیشن سے ہوں گے اور یہ اتفاق رائے سے ممبران کا تقرر کریں گے ۔

ادھر الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ وہ ایک خودمختار ادارہ ہوتے ہوئے جعلی ڈگریوں کے معاملے پر سپریم کورٹ کے حکم پر شفاف اور منصفانہ طریقے سے عمل درآمد کرے گا اور اس ضمن میں جن ارکان پر الزامات ہوں گے ان کو بھی اپنی صفائی کا پورا موقع دیا جائےگا ۔

اس سوال پر کہ اگر حکومت کی طرف سے پارلیمانی کمیٹی کی تشکیل میں تاخیر ہوتی ہے تو کیا ادارے کا تمام لائحہ عمل تعطل کا شکار نہیں ہو جائے گا ،اشتیاق احمد خان نے کہا کہ کمیشن نے پہلے ہی سپریم کورٹ کو اس بارے میں ایک درخواست دے رکھی ہے جس میں اس معاملے پر رہنمائی طلب کی گئی ہے۔ تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ حکومت کوئی تاخیری حربہ اس لیے استعمال نہیں کر سکتی کیونکہ قانون کی رو سے کمیشن کی تشکیل صرف حکومت کا ہی استحقاق نہیں بلکہ اس میں اپوزیشن جماعتوں کا بھی اتنا ہے عمل دخل ہے ۔

الیکشن کمیشن نے اپنے اعلان کردہ لائحہ عمل کے مطابق قانون سازوں کی جعلی تعلیمی اسناد کی جانچ پڑتال کے عمل کی نگرانی کے لیے ایک پانچ رکنی کمیٹی تشکیل دے دی ہے جس میں قانونی ماہرین بھی شامل ہیں ۔

نیوزکانفرنس کے دوران اشتیاق احمد خان نے بتایا کہ اعلیٰ تعلیمی کمیشن ڈگریوں کی جانچ پڑتال کے حوالے سے پوری معلومات کمیشن کو فراہم کرے گا اور اگر کسی معاملے پر ادھوری معلومات دی گئی تواس کمیٹی کے سربراہ جوائنٹ سیکریٹری محمّد افضل خان کو یہ اختیار ہو گا کہ وہ پاکستان بھر کے کسی بھی ادراے سے درکار متعلقہ معلومات طلب کر سکیں گے تاکہ کسی قسم کی بدعنوانی کا امکان باقی نا رہے۔

ساتھ ہی کمیشن نے تعلیم پر قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کو بھی یہ تجویز دی ہے کی وہ اس بات کا جائزہ لے کہ کمیشن کی طرف سے کارروائی شروع ہونے کے بعد اب آیا اس کی متوازی کارروائی کی ضرورت باقی رہتی ہے یا نہیں۔

سیکرٹری الیکشن کمیشن اشتیاق احمد خان

سیکرٹری الیکشن کمیشن اشتیاق احمد خان

الیکشن کمیشن کو اس تنقید کا سامنا رہا ہے کہ ڈگریوں کی جانچ پڑتال کے معاملے پر اس کی کارروائی سست روی کا شکار ہے لیکن ترجمان اس تنقید کو مسترد کرتے ہیں کیوں کے ان کا کہنا ہے کہ یہ ایک حساس معاملہ تھا جس میں کوئی بھی قدم اٹھانے سے پہلے تمام آئینی اور قانونی پہلوں پر غور و غوض کرنا لازمی ہوتا ہے ۔

انھوں نہ کہا کے جن قانون سازوں کی ڈگریاں نقلی ثابت ہوں گی کمیشن ان کا کیس متعلقہ ڈسٹرکٹ اور سیشن عدالتوں کے سپرد کرے گا تاکہ ان پر مجرمانہ فعل کا ارتکاب کرنے پر مقدمہ چلایا جا سکے۔

اپوزیشن حکمران پیپلز پارٹی پر الزام عائد کرتی ہے کہ وہ اپنے ارکان کے تحفظ کے لیے جعلی ڈگریوں کے معاملے کو سیاسی رنگ دے کر رکاوٹ پیدا کرناچاہتی ہے ۔

حکومت اس الزام کو مسترد کرتی ہے اور اس کا کہنا ہے کہ وہ جعلی اسناد رکھنے والوں کے حق میں نہیں۔ تاہم حکومتی عہدیداروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ جانچ پڑتال کے معاملے پر اعلی تعلیمی کمیشن یا قائمہ کمیٹی کو یہ اختیارنہیں دیا جائے گاکہ وہ مینڈیٹ سے تجاوز کرتےہوئے اپنی من مانی کریں۔

XS
SM
MD
LG