رسائی کے لنکس

فراز کی شاعری نغمگی سے بھرپور


احمد فراز (فائل فوٹو)

احمد فراز (فائل فوٹو)

احمد فراز نے گو کہ فلموں کے لیے خاص طور پر تو غزلیں یا نغمے نہیں لکھے مگر ان کی بے شمار غزلوں اور نظموں کو فلم سازوں نے استعمال کیا۔

اردو ادب کے ایک عہد ساز شاعر احمد فراز کو دنیا سے رخصت ہوئے چار سال ہو چلے ہیں۔
ان کی شاعری عوام و خواص میں یکساں طور پر مقبول ہے اور بلاشبہ نئے لکھنے والوں کے لیے ان کا اسلوب ایک رہنما کا درجہ رکھتا ہے۔

احمد فراز نے جہاں قلبی وارداتوں کو نہایت لطیف انداز سے تحریر کر کے ہر عہد کے نوجوانوں کو متاثر کیا وہیں معاشرتی، سماجی، معاشی عدم مساوات جیسے کڑوے سچ کو انقلاب و احتجاج کی ایک خفیف تہہ میں ملفوف کرکے شعروں کا روپ دیا۔

ہفتہ کو ان کی چوتھی برسی کے موقع پر ملک بھر میں شعر و ادب سے تعلق رکھنے والی تنظیموں نے اس عہد ساز شاعر کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے مختلف تقاریب کا اہتمام بھی کیا۔

احمد فراز کی نظمیں اور غزلیں اپنے اپنے وقت کے نابغہ روزگار گائیکوں نے گائیں جو ان کی پہچان اور شہرت میں مزید اضافے کا باعث بنیں۔

فراز نے گو کہ فلموں کے لیے خاص طور پر تو غزلیں یا نغمے نہیں لکھے مگر ان کی بے شمار غزلوں اور نظموں کو فلم سازوں نے استعمال کیا۔

شہنشاہ غزل مہدی حسن نے احمد فراز کی متعدد غزلوں کو فلموں میں اپنی آواز کا روپ دیا۔ ان میں ’’رنجش ہی سہی دل ہی دکھانے کے لیے آ‘‘ ، ’’اب کے ہم بچھڑے تو شاید۔۔۔‘‘ خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔

مہدی حسن کے بیٹے آصف مہدی نے بھی احمد فراز کی ایک غزل ’’سنا ہے لوگ اسے آنکھ بھر کے دیکھتے ہیں‘‘ کو ایک فلم کے لیے گایا۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے آصف مہدی کہتے ہیں کہ ’’جو میٹر بنتا ہے گانے بجانے کا، ردھم بنتا ہے تو احمد فراز صاحب میٹر کے حساب میں کہتے تھے جس سے طرز بناتے ہوئے دقت محسوس نہیں ہوتی تھی۔‘‘

انھوں نے کہا کہ بعض اوقات ان کی شاعری میں استعمال ہونے والے ثقیل الفاظ مشکل پیدا کر دیا کرتے تھے۔ ’’ لیکن جب فراز صاحب سے پوچھا جاتا تو وہ اس کا مطلب اور اس غزل کا مفہوم سمجھاتے تھے اور وہ اپنے انداز تغزل کو نہایت اچھے انداز میں سمجھاتے تھے۔‘‘

آصف مہدی کے بقول جو نغمگی احمد فراز کی شاعری میں ملتی ہے وہ بہت ہی کم شاعروں کے کلام میں ہے۔

احمد فراز کی شاعری کو جہاں مہدی حسن اور ملکہ ترنم نور جہاں سمیت کئی پاکستانی گلوکاروں نے گایا وہیں پڑوسی ملک بھارت کے کئی نامور گلوکار بھی ان کے کلام سے فیض یاب ہوتے رہے ہیں۔
XS
SM
MD
LG