رسائی کے لنکس

زرعی شعبے کے لیے مراعات، دفاعی بجٹ میں 11 فیصد اضافہ


فائل فوٹو

فائل فوٹو

کم آمدن والے غریب خاندانوں کو نقد مالی اعانت فراہم کرنے کے لیے بے نظیر انکم اسپورٹ پروگرام کے لیے آئندہ مالی سال کے دوران 115 ارب روپے مختص کیے جائیں گے۔

پاکستان کے وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے جمعہ کو آئندہ مالی سال 2017-2016 کے لیے بجٹ قومی اسمبلی میں پیش کیا۔

’’آئندہ مالی سال کے بجٹ کے کل اخراجات 4395 ارب روپے رکھے گئے ہیں، جو کہ گزشتہ مالی سال کے لیے مختص 4096 ارب سے صرف 7.3 فیصد زیادہ ہیں۔‘‘

وزیر خزانہ نے کہا کہ دفاعی بجٹ میں 11 فیصد اضافہ تجویز کیا گیا ہے ’’دفاع کی ضروریات کو مد نظر رکھتے ہوئے، افواج پاکستان کے دفاعی بجٹ کے لیے گزشتہ سال کے 776 ارب روپے کے مقابلے میں مالی سال 2017-2016 کے لیے 860 ارب مختص کیے ہیں۔‘‘

اُنھوں نے اپنی بجٹ تقریر میں زراعت کے شعبے کی ترقی کے لیے خصوصی مراعات کا اعلان کیا۔ وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ گزشتہ مالی سال کے دوران کپاس کی فصل کی پیداوار 28 فیصد کم رہی جس کی وجہ اقتصادی شرح نمو کا ہدف حاصل نا ہو سکا۔

وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ رواں مالی سال میں ملک میں زرعی شعبے کو مختلف مشکلات کا سامنا رہا جب کہ اجناس کے بڑھتے ذخائر، کم ہوتی قیمتیں اور غیر موزوں موسمی حالات کی وجہ سے یہ شعبہ عالمی سطح پر بحران کا شکار رہا اور زرعی آمدن میں کمی ہوئی۔

"ہم نے 2015ء۔2016ء کے بجٹ میں اعلان کردہ کئی رعائتیں دی تھیں جس کی مد میں قومی خزانے کو 15 ارب روپے (برداشت کرنا پڑے) ان تمام رعائتوں کو آئندہ مالی سال کے لیے بھی جاری رکھا جائے گا۔"

ان کے بقول وزیراعظم پہلے ہی کسانوں کے لیے 341 ارب روپے کے پیکج کا اعلان کر چکے ہیں جب کہ آئندہ مالی سال لیے کھاد کی قیمتوں میں کمی کے علاوہ زراعت کے لیے استعمال ہونے والے ٹیوب ویل پر بجلی کے نرخ میں رعایت دینے کی تجویز ہے۔

سرکاری ملازمین کے لیے تنخواہوں میں 10 فیصد تک اضافہ تجویز کیا گیا۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ سرکاری ملازمین کے لیے 2013-2014 میں تنخواہوں میں اضافے کو بنیادی تنخواہوں کا حصہ بنایا گیا ہے۔ ’’بجٹ میں وفاقی حکومت کے تمام ملازمین کی بنیادی تنخواہ پر یکم جولائی 2016 سے 10 فیصد اضافہ دیا جائے گا۔‘‘

کم سے کم اجرت کو 13,000سے بڑھا کر 14,000 روپے کر دیا گیا ہے۔

وفاقی سطح کے تمام ملازمین کی پنشن میں میں یکم جولائی سے10 فیصد اضافہ کیا گیا ہے جبکہ وفاقی حکومت کے 85 سال سے زائد عمر کے پنشنرز کی پنشن میں 25 فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔

نیشنل سیونگ سکیمز اور سینیئر سٹیزنز اور بیواؤں کے لیے بہبود سکیم کی سرمایہ کاری کی اوپری سطح بڑھا کر 40 سے50 لاکھ کی جا رہی ہے۔

کم آمدن والے غریب خاندانوں کو نقد مالی اعانت فراہم کرنے کے لیے بے نظیر انکم اسپورٹ پروگرام کے لیے آئندہ مالی سال کے دوران 115 ارب روپے مختص کیے جائیں گے۔

ترقیاتی منصوبوں کے لیے مختص وسائل میں پاکستان چین اقتصادی راہداری کے منصوبوں، توانائی اور شاہراہوں کی تعمیر کو ترجیح دی گئی ہے۔

حزب مخالف کی جماعتوں کی طرف سے کہا گیا کہ یہ بجٹ عوام دوست نہیں ہے۔

یہ بجٹ ایسے وقت پیش کیا گیا جب وزیراعظم نواز شریف ’اوپن ہارٹ سرجری‘ کے بعد لندن کے اسپتال میں زیرعلاج ہے، تاہم اُنھوں نے اپنے آپریشن سے ایک روز قبل پیر کو لندن سے وڈیو لنک کے ذریعے قومی اقتصادی کونسل اور کابینہ کے اجلاسوں کی صدرات کرتے ہوئے بجٹ کی منظوری دی تھی۔

وزیراعظم نواز شریف کی موجودہ حکومت کی طرف سے پیش کیا جانے والا یہ چوتھا وفاقی بجٹ ہے۔

XS
SM
MD
LG