رسائی کے لنکس

وفاقی بجٹ پیش، سرکاری اخراجات میں کمی کا اعلان


وزیر خزانہ اسحق ڈار

وزیر خزانہ اسحق ڈار

وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا کہ بحیثیت قوم ہمیں ایسے فیصلے کرنے ہوں گے جن سے پاکستان اپنے وسائل پر بھروسہ کرتے ہوئے، قرضہ جات کو کم کر سکے اور قومی معاشی ترجحیات پر توجہ دے سکے۔

پاکستان کے وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے بدھ کو مالی سال 2013-14 کے لیے 34 کھرب روپے سے زائد کا وفاقی بجٹ قومی اسمبلی میں پیش کیا۔

11 مئی کے انتخابات میں کامیاب ہونے والی جماعت مسلم لیگ (ن) کی حکومت کا اقتدار سنبھالنے کے تقریباً ایک ہفتہ بعد ہی پیش کیا جانے والا یہ پہلا وفاقی بجٹ ہے۔

وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے اپنی بجٹ تقریر میں آئندہ پانچ سالوں کے دوران اپنی حکومت کے اقتصادی لائحہ عمل کے خدوخال بھی بیان کیے جن میں اُن کا کہنا تھا کہ معاشی خود کفالت اولین ترجیح ہو گی۔

’’بحیثیت قوم ہمیں ایسے فیصلے کرنے ہوں گے جن سے پاکستان اپنے وسائل پر بھروسہ کرتے ہوئے، قرضہ جات کو کم کر سکے اور قومی معاشی ترجحیات پر توجہ دے سکے۔‘‘

اُنھوں نے کہا کہ حکومت نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ اُن لوگوں پر مزید بوجھ نا ڈالا جائے جو اپنے حصے کا واجب الااد ٹیکس پہلے ہی ادا کر رہے ہیں۔

’’وہ افراد جو کچھ بھی ادا نہیں کرتے وہ یقینی طور پر قومی خزانے میں اپنا حصہ ڈالیں اور قومی اقتصادی صورت حال کی بہتری ہماری اولین ترجیح ہے جس کے لیے ٹیکس نظام میں بنیادی اور کلیدی اصلاحات کی ضرورت ہے۔

آئندہ مالی سال کے بجٹ میں ریٹائرڈ سرکاری ملازمین کی پینشن میں 10 فیصد اضافے کی تجویز پیش کی گئی اور کم از کم تین ہزار پینشن کو بڑھا کر پانچ ہزار روپے کیا جائے گا۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ مشکل اقتصادی حالات کے تناظر میں کفایت شعاری کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

اُنھوں نے اپنی تقریر میں کہا کہ وزیراعظم ہاؤس کے اخراجات میں 45 فیصد کمی کر دی گئی ہے۔

’’سوائے ضروری اخراجات یعنی قرضوں کی واپسی، دفاع، سرکاری ملازمین کی تنخواہیں، سبسڈی، گرانٹس وغیرہ کے علاوہ (اخراجات میں تیس فیصد کی کمی) کو لاگو کیا جا رہا جس کے نتیجے میں وفاقی حکومت کو چالیس ارب روپے کی بچت ہو گی۔‘‘

نئے بجٹ میں وزیراعظم نواز شریف کی ہدایت پر تمام وفاقی وزراء اور وزرائے مملکت کے صوابدیدی فنڈز ختم کرنے کا اعلان بھی کیا گیا۔

آئندہ مالی سال کے بجٹ میں دفاع کے لیے 627 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

نئے بجٹ میں آبی ذخائر کی تعمیر اور بجلی کے پیداواری منصوبوں کے لیے بھی خطیر رقم مختص کی گئی ہے جب کہ تیل سے بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں کو واجب الادا 500 ارب روپے کے گردشی قرضوں کی ساٹھ دنوں میں ادائیگی کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔

وزیر خزانہ نے جنرل سیلز ٹیکس کی شرح 16 فیصد بڑھا کر 17 فیصد کرنے کی تجویز پیش کی۔

اُنھوں نے بتایا کہ نئے مالی سال کے دوران بجٹ خسارہ 1651 ارب روپے ہو گا جو گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں اڑھائی فیصد کم ہے۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ ملک بھر میں ترقیاتی منصوبوں کے لیے مختص رقوم میں اضافہ کیا گیا ہے جس سے روزگار کے مواقع بڑھیں گے۔

ملک بھر میں بے گھر افراد کے لیے چھوٹے گھروں پر مشتمل ایک بڑے تعمیراتی منصوبے کا اعلان بھی کیا گیا۔

’’ہر پاکستانی کا یہ حق ہے کہ اُس کے سر پر ایک چھت ہو…. جہاں ممکن ہوا سرکاری زمین پر تین مرلہ ہاؤسنگ سکیم کا آغاز کیا جائے گا، پبلک پرائیویٹ شراکت داری کے ذریعے پانچ سو گھر فی کالونی پر مشتمل ایک ہزار کالونیاں پاکستان میں بنائی جائیں گی۔‘‘

ریلوے کے نظام کو بہتر بنانے اور ملک میں چھوٹی بڑی شاہراہوں کی تعمیر کے لیے بھی اربوں روپے مختص کیے گئے۔

ملک میں اعلٰی تعلیم کے لیے 57 ارب روپے جب کہ صحت کے منصوبوں کے لیے 21 ارب روپے رکھے گئے۔

توانائی کے بحران کے تناظر میں بیٹری سے چلنے والی 1200 سی سی تک گاڑیوں کی درآمد پر کوئی ٹیکس نہیں ہو گا۔

آئندہ مالی سال کے بجٹ میں تعلیم یافتہ نوجوانوں کو تربیت کی فراہمی کے ایک منصوبے کا اعلان بھی کیا گیا جب کہ وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ غریب خاندانوں کے لیے انکم سپورٹ پروگرام جاری رہے گا۔

ان بجٹ تجاویز پر پارلیمان کے دونوں ایوانوں میں بحث کے بعد نئے مالی سال کے وفاقی بجٹ کی منظوری دی جائے گی۔ پاکستان کی وفاقی کابینہ پہلے ہی بجٹ تجاویز کی منظوری دی چکی ہے۔
XS
SM
MD
LG