رسائی کے لنکس

وفاقی بجٹ پر تنقید مسترد


وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار

وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار

کراچی چیمبر آف کامرس کے سابق صدر میاں ابرار نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ بجٹ میں تجویز کیے گئے اقدامات کے دور رس نتائج برآمد ہوں گے لہذا اسے ملک کی پائیدار ترقی کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔

وفاقی وزیرخزانہ اسحاق ڈار نے آئندہ مالی سال کے لیے پیش کیے گئے وفاقی بجٹ پر ہونے والی تنقید کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے حکومت نے یہ ملک و عوام کی ترقی کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کیا ہے۔

جمعہ کو قومی اسمبلی میں پیش کیے گئے بجٹ پر حزب مخالف اور عوامی حلقوں کی طرف سے یہ کہہ کر تنقید کی جا رہی ہے کہ جہاں ٹیکسوں میں مزید اضافہ کیا گیا وہیں عوام کو ریلیف دینے کے لیے اس بجٹ میں کوئی ٹھوس اقدامات نہیں کیے گئے جس سے مشکلات کے شکار عام آدمی کے لیے مزید پریشانیاں پیدا ہوں گی۔

تاہم ہفتہ کو اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیرخزانہ نے اس تنقید کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ٹیکس غریبوں پر نہیں بلکہ صاحب ثروت پر لگایا گیا ہے۔

انھوں نے اس تاثر کو بھی رد کیا کہ غریبوں کی فلاح کے لیے بجٹ میں کچھ نہیں کیا گیا۔

"بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے فنڈ کو 102 ارب کر دیا گیا اس سے کس کو فائدہ ہو گا، بیت المال کے بجٹ کو دو سے بڑھا کر چار ارب کیا گیا، نوجوانوں کے لیے قرضے فراہم کیے جائیں گے تو کیا یہ سب امیر آدمی کو ملیں گے۔"

حزب مخالف کی جماعت پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے پیش کیے گئے بجٹ پر تنقید کرتے ہوئے حکومت پر الزام عائد کیا کہ وہ مخصوص کاروباری طبقے کو فائدہ پہنچاتی آرہی ہے۔

لیکن اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ انھوں نے ٹیکس وصولی میں بھی لوگوں کو ریلیف دی ہے جب کہ زراعت، تعمیرات اور صنعتی شعبے میں کیے گئے اقدامات سے آئندہ ماہ سال میں ان کے بقول 20 سے 25 لاکھ ملازمتوں کے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ بجٹ سے متعلق حزب مخالف کی مثبت تجاویز پر غور پر مشاورت کی جائے گی۔

کاروباری طبقے کی طرف سے بھی اس بجٹ پر ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

کراچی چیمبر آف کامرس کے سابق صدر میاں ابرار نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ بجٹ میں تجویز کیے گئے اقدامات کے دور رس نتائج برآمد ہوں گے لہذا اسے ملک کی پائیدار ترقی کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔

تاہم انھوں نے بھی ٹیکس وصولی کے نظام میں بڑے پیمانے پر اصلاحات کر کے اس کے نفاذ کی ضرورت پر زور دیا تا کہ ہر شہری اپنی آمدن کے مطابق ملکی خزانے میں اپنا حصہ ڈال کر اس کے ثمرات سے مستفید ہو سکے۔

XS
SM
MD
LG