رسائی کے لنکس

پاکستان کے شمال میں آباد قدیم کالاش قبیلہ اپنے مخصوص طرز زندگی اور ثقافت کے ثقافت کے باعث دنیا بھر میں الگ شناخت رکھتا ہے۔ یہ قبیلہ ان دنوں اپنا سالانہ تہوار منا رہا ہے جسے مقامی زبان میں 'یوشی' اور عرف عام میں 'چلم جوشی' کہا جاتا ہے۔

بمبریت، رمبور اور بریر پر مشتمل تین وادیوں میں ہزاروں سال پرانی تہذیب کو اسی طرح برقرار رکھنے والے کالاش قبیلے کے لگ بھگ چار ہزار افراد آباد ہیں۔

یوشی ان لوگوں کا ایک مذہبی تہوار ہے جس میں یہ بہار کی آمد اور فصلوں کے تیار ہوجانے پر شکر کا اظہار کرتے ہیں۔

اس موقع پر مرد حضرات پنیر اور روٹی لے کر اپنی عبادت گاہوں کا رخ کرتے ہیں اور اپنے معبود کا شکر ادا کرتے ہیں۔ خواتین اور لڑکیاں اپنے روایتی لباس اور مخصوص سامان آرائش سے مزین ڈھول کی تھاپ پر رقص اور گیت گا کر خوشی کا اظہار کرتی ہیں۔

نوجوان لڑکے اور لڑکیوں کے لیے یوشی نسبتاً زیادہ خوشی کا تہوار ہوتا ہے کیونکہ انھوں نے شادی کے لیے جسے پسند کیا تھا باقاعدہ طور پر یہ ان کے ساتھ رشتہ ازدواج سے منسلک ہونے کا موقع ہوتا ہے۔

فائل فوٹو
فائل فوٹو

یوشی تہوار کے میں گزشتہ ایک سال کے دوران پیدا ہونے والے بچوں کو باقاعدہ کالاش مذہب اور روایت میں شامل کرنے کی رسم بھی شامل ہے جسے 'گلپرک' کہا جاتا ہے۔

یوشی کے دوران مقامی لوگ اپنے گھروں کو پھولوں سے سجاتے ہیں اور احباب و اقربا میں دودھ بھی تقسیم کرتے ہیں۔

پاکستان کے علاوہ دنیا کے مختلف ملکوں سے سیاح اس تہوار کو دیکھنے کے لیے خصوصی طور پر ان وادیوں کا رخ کرتے ہیں جو ان کے لیے کسی بھی طور ایک منفرد اور دلچسپ تجربے سے کم نہیں۔

کالاش کے لوگ امن پسند اور فطری ماحول سے لگاؤ رکھتے ہیں لیکن حالیہ برسوں میں انھیں بھی سلامتی کے خدشات کا سامنا رہا ہے جس میں خاص طور پر اس وقت اضافہ ہوا جب حالیہ مہینوں میں مبینہ طور پر سرحد پار افغانستان سے شدت پسند مقامی چراہوں پر حملے کر کے ان کی بھیڑ بکریوں کو زبردستی اپنے ساتھ لے جاتے رہے۔

فائل فوٹو
فائل فوٹو

وزیرزادہ کا کہنا تھا کہ اس قبیلے کو بھی سلامتی کے ویسے ہی خدشات کا سامنا ہے جیسا کہ پاکستان کے دیگر حصوں میں آباد لوگوں کو لیکن ان کے بقول یوشی کے موقع پر کیے گئے سکیورٹی انتظامات سے کالاش کے لوگ مطمیئن ہیں۔

چار روز تک جاری رہنے والا یہ تہوار بدھ کو اختتام پذیر ہو گا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG