رسائی کے لنکس

'بیرون ملک لڑائیوں میں مصروف پاکستانی ملک کے لیے خطرہ ہو سکتے ہیں'


افغانستان میں پکڑے گئے پاکستانی طالبان عسکریت پسند

افغانستان میں پکڑے گئے پاکستانی طالبان عسکریت پسند

شائع شدہ اطلاعات کے مطابق کم از کم 650 پاکستانی عراق، شام، افغانستان اور وسط ایشیائی ممالک میں مختلف جنگجو گروپوں میں شامل ہیں جن میں سے 132 کی انٹیلی جنس اداروں نے نشاندہی کر لی ہے۔

دنیا کے مختلف جنگ اور شورش زدہ علاقوں میں سیکڑوں پاکستانی بھی مختلف گروپوں کے ساتھ مل کر لڑ رہے ہیں اور ان کی وطن واپسی کی صورت میں ملک میں فرقہ وارانہ اختلاف سمیت سلامتی کے خطرات جنم لے سکتے ہیں۔

یہ بات پاکستان کے ایک موقر روزنامے "ڈان" کی ایک خبر میں نیشنل کرائسز مینیجمنٹ سیل کے حوالے سے بتائی گئی ہے۔

شائع شدہ اطلاعات کے مطابق کم از کم 650 پاکستانی عراق، شام، افغانستان اور وسط ایشیائی ممالک میں مختلف جنگجو گروپوں میں شامل ہیں جن میں سے 132 کی انٹیلی جنس اداروں نے نشاندہی کر لی ہے۔

اخبار نے نام ظاہر کیے بغیر ایک اعلیٰ سکیورٹی افسر کے حوالے سے بتایا کہ سیل نے انٹیلی جنس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ بیرون ملک لڑائیوں میں مصروف جنگجوؤں کے گھر والوں کی بھی نگرانی کریں جب کہ وزارت داخلہ سے کہا گیا ہے کہ وہ ایسے افراد کے ملک میں داخلے کو روکنے کے لیے اقدام کرے۔

پاکستان کے پڑوسی ملک افغانستان میں کئی دہائیوں سے جنگی صورتحال جاری ہے جب کہ ایسی اطلاعات بھی سامنے آچکی ہیں کہ درجنوں پاکستانی عراق و شام میں شدت پسند گروپ داعش میں شمولیت یا پھر اس کے خلاف لڑنے والے گروپوں میں شامل ہونے کے لیے وہاں گئے ہیں۔

سلامتی کے امور کے ماہر اور پاکستان انسٹیٹیوٹ آف پیس اسٹڈیز کے ڈائریکٹر عامر رانا نے بدھ کو وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ لڑائیوں میں حصہ لینے والے یہ پاکستانی ملک واپس آکر یہاں مسائل کا سبب بن سکتے ہیں اور اس کے لیے پہلے سے ہی اقدام کرنا ہوں گے۔

"خاص طور پر عراق اور شام سے جو عسکریت پسند واپس ملکوں کو گئے ان کے بارے میں بہت تحفظات ہیں، خاص طور پر یورپ میں جو دہشت گرد حملے ہوئے ہیں ان کے پیچھے بھی ان قوتوں کا ان عسکریت پسندوں کا ہاتھ ہے جو تربیت حاصل کر کے آئے ہیں۔۔۔تو میرا خیال ہے اس کا پورا ایک سیاق و سباق ہے اور بڑا ضروری ہے کہ اسے دیکھا جائے اور اس کی روک تھام کی جائے۔"

گزشتہ ماہ جرمنی میں ایک ریل گاڑی میں کلہاڑی سے وار کر کے مسافروں کو زخمی کرنے والے حملہ آور کے بارے میں بھی شبہ ظاہر کیا گیا تھا کہ اس کا تعلق پاکستان سے ہو سکتا ہے جب کہ گزشتہ سال پیرس میں ہونے والے بم دھماکوں کی منصوبہ بندی کے الزام میں جن دو افراد پر فرانس میں حال ہی میں فرد جرم میں عائد کی گئی ان میں بھی ایک پاکستانی شہری ہے۔

XS
SM
MD
LG