رسائی کے لنکس

وزیر خزانہ شوکت ترین اپنے عہدے سے مستعفی


وزیر خزانہ شوکت ترین اپنے عہدے سے مستعفی

وزیر خزانہ شوکت ترین اپنے عہدے سے مستعفی

وزیرخزانہ شوکت ترین نے کہا ہے کہ نجی مصروفیات اور ذاتی کاروبار پر توجہ دینے کے لیے انھوں نے وزارت خزانہ کا قلمدان چھوڑنے کا فیصلہ کیا ہے کیونکہ اگر وہ ایسانہ کرتے تو ان کے بقول سرکاری اور ذاتی مفادات کا تصادم یقینی تھا۔

لیکن مقامی میڈیا سے گفتگو میں انھوں نے یہ اعتراف بھی کیا کہ حکومت کے مختلف متنازع منصوبوں پر ان کے اختلافات سے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی سمیت کابینہ میں شامل دیگر وزراء آگاہ تھے۔ انھوں نے حکومت کے دوسرے عہدیداروں کو بھی مشورہ دیا کہ وہ اپنے ذاتی کاروبار اور سرکاری ذمہ داریوں میں تفریق کو یقینی بنائیں۔

وزیراعظم گیلانی نے ان کا استعفیٰ منظور کرتے ہوئے ایک بیان میں شوکت ترین کی خدمات کو سراہا اور انھیں 28فروری تک بطور وزیرخزانہ کام جاری رکھنے کی ہدایت کی۔

وزیراعظم گیلانی نے یہ بھی کہا کہ ملک کی اقتصادی پالیسیوں میں تسلسل کے لیے شوکت ترین کا قومی اقتصادی کونسل میں مشاورتی کردار برقرار رہے گا۔

یاد رہے کہ شوکت ترین نے اکتوبر2008ء میں وزیراعظم کے مشیر برائے اقتصادی امورکی حیثیت سے اپنی سرکاری ذمہ داریاں سنبھالیں تھیں اور بعد میں سینٹ کا رکن منتخب ہونے کے بعد انھیں ملک کا باقاعدہ وزیرخزانہ بنا دیا گیا۔ 2008ء میں جب پاکستان کے نادہندہ ہونے کی خبریں سامنے آرہی تھیں تو شوکت ترین نے بین لاقوامی مالیاتی ادارے (IMF)سے کامیاب مذاکرات کرکے 11.8ارب ڈالر سے زائد قرض کے حصول میں اہم کردار اد کیا تھا۔

اس کے علاوہ صوبوں اور وفاق کے درمیان قومی آمدن اور وسائل کی تقسیم یعنی این ایف سی کا مسئلہ بھی 19سال بعد گذشتہ دسمبر میں متفقہ طور پر حل کرانے میں شوکت ترین نے بطور وفاقی وزیرخزانہ اہم ذمہ داری نبھائی۔ لیکن ان کے ناقدین کا ماننا ہے کہ بحیثیت مجموعی وہ ملک کی معیشت کو بہتر بنانے میں کوئی قابل ذکر کردار ادا نہ کرسکے۔

XS
SM
MD
LG