رسائی کے لنکس

پاکستان میں پہلی بار بائیو میٹرک نظام کے تحت ووٹنگ


فائل فوٹو

فائل فوٹو

حلقہ این اے 19 میں ووٹرز کی تعداد پانچ لاکھ 77 ہزار 480 ہے جب کہ کل نو امیدوار میدان میں ہیں لیکن توقع ہے کہ مسلم لیگ ن کے بابر نواز اور پاکستان تحریک انصاف کے راجہ عامر زمان کے درمیان سخت مقابلہ ہوگا۔

پاکستان کے ایوان زیریں (قومی اسمبلی) کی ایک نشست کے لیے اتوار کو ہونے والے ضمنی انتخاب میں ملکی تاریخ میں پہلی بار بائیومیٹرک نظام استعمال کیا گیا۔

صوبہ پختونخواہ کے علاقے ہری پور سے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 19 کے لیے پولنگ کا سلسلہ صبح آٹھ بجے شروع ہوا جو بغیر کسی وقفے کے شام پانچ بجے تک جاری رہا۔

الیکشن کمیشن کے مطابق 513 پولنگ اسٹیشنز میں سے 30 پر بائیومیٹرک نظام سے تصدیق کے بعد ووٹروں کو اپنا حق رائے دہی استعمال کرنے کا منصوبہ بنایا گیا تھا اور حکام کے بقول اس تجربے کے نتائج کو مدنظر رکھتے ہوئے آئندہ عام انتخابات میں بائیومیٹرک نظام کو استعمال میں لانے یا نہ لانے کا فیصلہ کیا جائے گا۔

یہ امر قابل ذکر ہے کہ مئی 2013ء کے عام انتخابات کے بعد مختلف سیاسی جماعتوں کی طرف سے پولنگ میں مختلف بے ضابطگیوں کی شکایات سامنے آئی تھیں جن میں ایک ہی نشان انگوٹھا کے تحت کئی کئی ووٹ ڈالنے کا الزام بھی شامل تھا۔

بائیومیٹرک نظام میں نشان انگوٹھا کے ذریعے ووٹ ڈالنے والے کی شناخت کی تصدیق کو یقینی بنایا جاتا ہے۔

اس حلقے میں ووٹرز کی تعداد پانچ لاکھ 77 ہزار 480 ہے جب کہ کل نو امیدوار میدان میں ہیں لیکن توقع ہے کہ مسلم لیگ ن کے بابر نواز اور پاکستان تحریک انصاف کے راجہ عامر زمان کے درمیان سخت مقابلہ ہوگا۔

یہ نشست پاکستان تحریک انصاف کے عامر زمان کی طرف سے مسلم لیگ ن کے عمر ایوب کی کامیابی کے خلاف سپریم کورٹ میں دائر درخواست کے اس فیصلے کے بعد خالی ہوئی تھی جس میں عدالت نے اس حلقے کے انتخاب کو کالعدم قرار دے دیا تھا۔

حلقے کے 42 پولنگ اسٹیشنز کو حساس ترین جب کہ 209 کو حساس قرار دیا گیا تھا اور کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے کے لیے پولیس کے علاوہ یہاں فوج کے جوان بھی تعینات کیے گئے۔

بعض پولنگ اسٹیشنز سے یہ اطلاعات بھی موصول ہو رہی ہیں کہ وہاں خواتین کو ووٹ ڈالنے نہیں دیے جا رہے کیونکہ یہاں کے مقامی عمائدین نے متفقہ طور پر فیصلہ کیا تھا کہ یہاں خواتین اپنا ووٹ نہیں ڈالیں گی۔

مجموعی طور پر انتخابی عمل پرامن انداز میں اپنے اختتام کو پہنچا اور ووٹوں کی گنتی کا مرحلہ شروع ہوگیا ہے۔

XS
SM
MD
LG