رسائی کے لنکس

کوئٹہ: پولیس سے جھڑپ میں پانچ 'شدت پسند' مارے گئے

  • ستار کاکڑ

فائل فوٹو

فائل فوٹو

مسلح لوگوں نے چشمہ اچوزئی کے علاقے میں ایک باغ میں پناہ لے رکھی تھی کہ جیسے ہی ان لوگوں نے گاڑی کو اپنی طرف آتے دیکھا تو اس پر خودکار ہتھیاروں سے اندھا دھند فائرنگ کر دی۔

پاکستان کے جنوب مغربی صوبے بلوچستان کے مرکزی شہر کو ئٹہ کے نواحی علاقے میں پولیس اور مسلح افراد کے درمیان فائرنگ کے تبادلے میں ایک کالعدم مذہبی تنظیم کے پانچ مشتبہ شدت پسند مارے گئے۔

پولیس حکام کے مطابق کوئٹہ کے ہوائی اڈے کے قریب گشت پر مامور پولیس کی ایک گاڑی پر مشتبہ شدت پسندوں نے حملہ کیا۔

ان مسلح لوگوں نے چشمہ اچوزئی کے علاقے میں ایک باغ میں پناہ لے رکھی تھی کہ جیسے ہی ان لوگوں نے گاڑی کو اپنی طرف آتے دیکھا تو اس پر خودکار ہتھیاروں سے اندھا دھند فائرنگ کر دی۔

پولیس کے بقول مسلح افراد کی فائرنگ سے اہلکاروں کا جانی نقصان نہیں ہوا لیکن اس کے بعد یہاں پولیس کی اضافی نفری طلب کی گئی جس نے علاقے میں شدت پسندوں کی تلاش شروع کی۔

اس دوران مشتبہ شرپسندوں کی جانب سے پولیس پر دوبارہ فائرنگ کی گئی۔ جوابی فائرنگ سے باغ میں روپوش پانچوں افراد مارے گئے۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ باغ سے دو مو ٹر سائیکلیں، دیسی ساختہ بم اور خود کا ر ہتھیار بھی برامد کیے گئے۔ حکام کے بقول ہلاک ہونے والے افراد کا تعلق ایک کالعدم مذہبی تنظیم سے ہے۔

واضح رہے کہ پیر کو کو ئٹہ کے نواحی علاقے سر یاب میں مسلح افراد نے انسداد دہشت گردی فورس کے ایک افسر کو نشانہ بنایا تھا اور اس کی ذمہ داری کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے قبول کی تھی۔

رواں ماہ کے دوران کو ئٹہ ہی کے علاقے سر یا ب میں پولیس اور مسلح افراد کے درمیان جھڑپ میں 4 افراد مارے گئے تھے جب کہ حملہ آوروں کی فائرنگ سے دو پولیس اہلکار بھی زخمی ہوئے تھے۔ پولیس نے ہلاک ہونے والے افراد کا تعلق ایک کالعدم مذہبی تنظیم سے بتایا تھا۔

XS
SM
MD
LG