رسائی کے لنکس

’ممکنہ سیلاب سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں‘


’ممکنہ سیلاب سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں‘

’ممکنہ سیلاب سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں‘

پاکستان میں مون سون بارشوں کا آغاز ہو چکا ہے اور محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ اس وقت دریائے کابل میں نوشہرہ اور دریائے راوی میں بلوکی کے مقام پر نچلے درجے کا سیلاب ہے۔ حکام پہلے ہی اس سال ملک کے بالائی علاقوں سمیت پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں معمول سے 10فیصد زائد بارشوں کی پیش گوئی کر چکے ہیں۔

ایک ایسے وقت جب گزشتہ سال ملکی تاریخ کے بدترین سیلاب کی وجہ سے ہونے والی تباہی سے تاحال مکمل طور پر نہیں نمٹا جا سکا ہے، امدادی ادارے اس سال بھی وسیع پیمانے پر نقصانات کے خدشے کا اظہار کر رہے ہیں۔

وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے اس صورتحال کے تناظر میں تمام متعلقہ محکموں کو تیار رہنے کی ہدایت کی ہے۔’’یہ نہیں ہونا چاہیے کہ ہروقت ہم بیرونی امداد کی طرف دیکھتے ہیں، ہمیں فوری طور پر اپنے وسائل پیدا کرنے چاہیئں۔‘‘

لیکن قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے قائم قومی ادارے این ڈی ایم اے اور اس کی ذیلی شاخوں کا کہنا ہے کہ گزشتہ سال سے سبق سیکھتے ہوئے اس مرتبہ بہتر منصوبہ بندی کی گئی ہے اور بارشوں کے باعث پیدا ہونے والی کسی بھی ممکنہ ہنگامی صورتحال کا موثر انداز میں سامنا کرنے کے لیے مربوط اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

این ڈی ایم اے کے سربراہ ظفر اقبال قادر نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں بتایا کہ جن علاقوں میں سیلاب آنے کا خدشہ ہے وہاں امدادی کیمپ قائم کرنے سے متعلق بھی منصوبہ بندی کی جا چکی ہے۔

اداروں کی تیاری کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے اُنھوں نے کہا کہ ”پچھلے سال سے یقینا بہتر ہے کیونکہ نگرانی بہت ہورہی ہے ان کاموں کی لوگ خود جو متاثر ین ہیں وہاں پر وہ نظررکھے ہوئے ہیں پل پل کی خبر دیتے ہیں پھر سیاسی رہنما اپنے اپنے علاقوں میں نگرانی کررہے ہیں کہ کام ٹھیک ہورہا یا نہیں “۔

ظفر اقبال کا کہنا تھا کہ اگر اس سال بھی سیلاب کی شدت اور حجم جولائی 2010ء میں آنے والے تباہ کن سیلاب کے برابر ہوا تو اُس سے 60لاکھ افراد کے متاثر ہو نے کا خدشہ ہے لیکن اُن کے بقول اس کے امکانات بہت کم ہیں کیوں کہ مغربی اورمشرقی دریاؤں میں ایک ہی وقت میں اونچے درجے کا سیلاب اور اُن کا ایک مقام پر ملناغیر معمولی امر ہے ۔

این ڈی ایم کے سربراہ نے کہا کہ اس مرتبہ ممکنہ سیلاب سے 20لاکھ افراد متاثر ہو سکتے ہیں جنہیں امداد کی ضرورت ہوگی ۔

انسانی بنیاد پر فراہم کی جانے والی امداد کے لیے اقوام متحدہ کے نگران ادارے کے پاکستان میں سربراہ مینول بیسلر کا کہنا ہے کہ عالمی تنظیم پاکستان میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے وفاقی و صوبائی سطح پر قائم اداروں کے ساتھ مل کر منصوبہ بندی میں مصروف ہے اور محکمہ موسمیات کی پیش گوئی کے مطابق صورت پر مسلسل نظر رکھی جارہی ہے۔

سرکاری اعدادوشمار کے مطابق گزشتہ سال شدید بارشوں کے باعث آنے والے تباہ کن سیلاب سے پاکستان کے 78 اضلاع میں دو کروڑ سے زائد افراد متاثر ہوئے تھے جب کہ وسیع رقبے پر کھڑی فصلوں کو بھی نقصان پہنچا تھا۔ بجلی کی پیدواری تنصیبات، اسکول، بنیادی صحت کے مراکز سمیت انتظامی ڈھانچے بھی شدید متاثر ہوئے تھے۔ عالمی بینک اور حکومت کے اعدادوشمار کے مطابق پاکستان کو گذشتہ سال آنے والے تباہ کن سیلاب سے تقریباً 10 ارب ڈالر کا نقصان ہوا تھا۔

XS
SM
MD
LG