رسائی کے لنکس

مصنوعی جھیل کے ٹوٹنے کا خطرہ، دیہاتوں کا انخلا شروع


مصنوعی جھیل کے ٹوٹنے کا خطرہ، دیہاتوں کا انخلا شروع

مصنوعی جھیل کے ٹوٹنے کا خطرہ، دیہاتوں کا انخلا شروع

پاکستانی حکام شمالی مغربی علاقے میں بننے والی ایک مصنوعی جھیل کے ٹوٹنے اور بڑے پیمانے پر سیلاب کے خدشات کے پیش نظر وہاں کے دیہاتوں کو خالی کروا رہے ہیں ۔

عہدے داروں کا کہنا ہے کہ جھیل کے کنارے ٹوٹنے کے نتیجے میں آنے والے سیلاب کے نتیجے میں قریبی علاقوں کے کم ازکم 40 ہزار افراد متاثر ہوسکتے ہیں۔

جنوری کے شروع میں مٹی کے ایک تودے کے گرنے سے 20 افراد ہلاک ہوگئے تھے اور دریائے ہنزہ کے بہاؤ کا راستہ بند ہوگیا تھا ، جس سے اس دور افتادہ علاقے میں ایک 15 کلومیٹر لمبی ایک مصنوعی جھیل بن گئی تھی۔

پاکستانی فوج نے اس جھیل کو ٹوٹنے سے بچانے کے لیے کئی اقدامات کیے ہیں جن میں جھیل سے پانی کے اخراج کے لیے ایک سپل وے بنانا شامل تھا ۔

لیکن سانحوں سے متعلق ادارے کے عہدے داروں کا کہنا ہے کہ گلیشیروں کے پگھلنے کے نتیجے میں جھیل میں پانی کی سطح بلند ہورہی ہے جس سے جھیل کے کناروں پر دباؤ میں اضافہ ہورہاہے اور وہ آنے والے دنوں میں کسی بھی وقت ٹوٹ سکتے ہیں۔

جھیل سے بہہ نکلنے والے پانی کے ریلے شاہراہ قراقرم کو اپنی لپیٹ میں لے سکتے ہیں جو پاکستان کو چین سے ملانے والی ایک اہم تجارتی گذرگاہ ہے۔

XS
SM
MD
LG