رسائی کے لنکس

امداد سیلاب زدگان کے لیے ناکافی: اقوام متحدہ

  • یاسر منصوری

اریان رمیرے

اریان رمیرے

اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ تقریباً ایک ماہ گزر جانے کے بعد بھی پاکستان میں سیلاب زدگان کی ایک بہت بڑی تعداد کو امدادی اشیاء تک رسائی حاصل نہیں کیوں کہ اب تک موصول ہونے والی امداد ناکافی ہے۔

پاکستان کی تاریخ کے بدترین سیلاب سے ہلاکتیں تو کم ہوئی ہیں لیکن اس قدرتی آفت سے ملک بھر میں دو کروڑ سے زائد افراد متاثر ہوئے ہیں، جن میں سے آٹھ لاکھ ایسے علاقوں میں موجود ہیں جہاں تک رسائی صرف ہیلی کاپٹر کے ذریعے ممکن ہے۔ تاہم ہیلی کاپٹروں کی کمی کے باعث امدادی سرگرمیوں میں مشکلات کا سامنا ہے اور اقوام متحدہ نے اس صورتحال کے تدارک کے لیے جلد از جلد 40 ہیلی کاپٹر فراہم کرنے کی درخواست کی ہے۔

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ سیلاب سے پاکستان میں مجموعی طور پر ایک لاکھ 60 ہزار مربع کلومیٹر کا علاقہ متاثر ہوا جو کہ انگلینڈکے کل رقبے سے زیادہ ہے۔

پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کے ادارے یو این ایچ سی آر کی ترجمان آریان رمری (Ariane Rummery) نے بدھ کے روز دارالحکومت اسلام آباد میں صحافیوں کو بتایا کہ سیلاب زدہ علاقوں میں امدادی سرگرمیوں میں مصروف تنظیموں کو امداد کی تقسیم کے عمل میں بہتری لانے کی ضرورت ہے۔ ”ہم کو امدادی اشیاء کی تقسیم کے لیے تیزی اور نظم و ترتیب میں توازن قائم کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ایسے افراد جو ٹرکوں کے پیچھے نہیں بھاگ سکتے ان کو امداد کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔“

ترجمان کا کہنا تھا کہ صوبہ سندھ میں امدادکے حصول کے دوران سیلاب زدگان زخمی بھی ہوئے ہیں جو ایک پریشان کن امر ہے، اس لیے امدادی اشیاء کی تقسیم کے لیے مزید مراکز قائم کرنے اور کارروائیوں کا دائرہ کار دیہاتوں تک بڑھانے کی ضرورت ہے۔

اقوام متحدہ نے متنبہ کیا ہے کہ سیلاب زدہ علاقوں میں 35 لاکھ بچے آلودہ پانی پینے اور حفظان صحت کی ناقص صورتحال کے باعث ممکنہ طور پر جان لیوا بیماریوں کا شکار ہو سکتے ہیں۔

عالمی ادارہ برائے خوراک ڈبلیو ایف پی کے ترجمان مارکس پرائرنے بتایا کہ متاثرہ علاقوں میں بچوں کی غذائی ضروریات کو پورا کرنا ایک بڑا مسئلہ ہے۔ انھوں نے کہا کہ بچوں کو موزوں خوراک کی فراہمی بہت اہم ہے کیوں کہ صحت مند بچوں میں وبائی امراض سے محفوظ رہنے کی زیادہ صلاحیت ہوتی ہے۔

مارکس پرائرنے بتایا کہ ڈبلیو ایف پی اب تک پانچ لاکھ بچوں کو توانائی سے بھرپور بسکٹ مہیا کر چکا ہے لیکن اب بھی ایک بڑی تعداد میں بچوں کو ان کی فراہمی یقینی بنانا لازمی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ فوری استعمال کے قابل غذائی اشیاء کی پاکستان درآمد کے لیے آئندہ دو ماہ میں کم از کم 30 پروازوں کی ضرورت ہو گی جن پر تقریباً ایک کروڑ ڈالر اخراجات آئیں گے۔

ادھر اقوام متحدہ کے مطابق سیلاب کے نتیجے میں سامنے آنے والا ایک اور اہم مسئلہ لوگوں کا اپنی شناختی اور قانونی دستاویزات سے محروم ہو جانا ہے۔ آریان رمری کا کہنا تھا کہ پاکستان کے دیہی علاقوں میں زمینوں کی حد بندی عموماً درختوں اور نہروں کی مدد سے کی جاتی ہے اور متعدد علاقوں میں سیلاب کے بعد ان نشانیوں کا وجود نہیں رہا۔

XS
SM
MD
LG