رسائی کے لنکس

طلب گار ہاتھوں تک امداد کی رسائی میں تاخیرکے اسباب


امداد کے حصول کے لیئے سیلاب زدگان کے ہجوم

امداد کے حصول کے لیئے سیلاب زدگان کے ہجوم

پاکستان میں سیلاب زدگان تک امداد پہنچانے کا سلسلہ جاری ہے لیکن زلزلہ زدگان ہوں یا سیلاب زدگان ان تک امداد کی ترسیل ہمیشہ سے سخت تنقید کا باعث رہی ہے۔ عموماً سب سے پہلا الزام یہی ہوتا ہے کہ واقعے کو گزرے اتنا، اتنا عرصہ ہوگیا مگر ابھی تک حکومتی امداد وہاں تک نہیں پہنچی۔ ادھر حکومت اور غیر سرکاری تنظیمیں اپنی صفافی پیش کرنے کے باوجود تنقید کا شکار ہوہی جاتی ہیں۔

---

کیا واقعی امداد کی ترسیل اتنی ہی مشکل ہوتی ہے کہ اس کام میں کئی دن اور بعض اوقات کئی ہفتے لگ جاتے ہیں؟ اگر ہاں۔۔ تو اس کی اصل وجوہات کیا ہوتی ہیں؟

آج پاکستان میں سیلاب کو ایک ماہ مکمل ہوگیاہے مگر اس کے باوجود 80 لاکھ سے زائد افراد تک غذائی اشیاء اور دیگر امدادی سامان کی بروقت رسائی ایک لاجسٹک چیلنج بنی ہوئی ہے۔ امدادی سامان پہنچانے کے لئے تین ذرائع استعمال کئے جارہے ہیں۔ ٹرک، خچر اور ہیلی کاپٹرز۔ عالمی ادارہ خوراک کے مطابق اگر یہ فرض کرلیا جائے کہ ٹرک ، خچروں یا ہیلی کاپٹرز کے ذریعے کم از کم ایک سو کلو میٹر تک امدادی سامان پہنچانا ہے تو اس میں کتنا وقت اور پیسہ لگے گا ، اس بات کا جائزہ تینوں ذرائع نقل و حمل کے لحاظ سے الگ الگ لینا پڑے گا۔

ٹرک

امدادی سامان پہنچانے کا سب سے اہم اور کارگر ذریعہ ٹرک ہیں۔ایک ٹرک ، ایک بار میں زیادہ سے زیادہ دس ٹن غذائی اشیاء لے جاسکتا ہے۔ اس لحاظ سے اگر صرف سو ٹن غذائی اشیاء بھی کسی جگہ پہنچا نی ہوں تواس کے لئے دس ٹرک درکار ہوں گے جبکہ ایک ٹرک کو سو کلومیٹر تک پہنچنے میں کم ازکم تین گھنٹے لگتے ہیں۔ اس میں بارہ سو امریکی ڈالر یا ایک لاکھ بتیس ہزار روپے صرف ہوں گے ۔ اس اعتبار سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ اگر سامان زیادہ ہے توٹرکوں کی تعداد اور اس کے اخراجات اسی نسبت سے بڑھتے چلے جائیں گے۔ یعنی جس نسبت سے سامان بڑھے گا اسی نسبت سے اس کے اخراجات میں اضافہ ہوتا چلا جائے گاالبتہ وقت وہی تین گھنٹے رہے گا خواہ ایک ٹرک ہوں یا دس ٹرکوں کا قافلہ۔

طلب گار ہاتھوں تک امداد کی رسائی میں تاخیرکے اسباب

طلب گار ہاتھوں تک امداد کی رسائی میں تاخیرکے اسباب

ٹرک ڈرائیور محمد فیضان مظفر گڑھ پنجاب کا رہنے والا ہے۔ اس نے بتایا " ٹرکوں کے ذریعے سامان مقررہ مقامات تک پہنچاناجان جوکھوں کا کام ہے۔ راستے میں متعدد جگہ ضرورت مند پیچھے لگ جاتے ہیں ۔ ان کا بس نہیں چلتا کہ سارا سامان لوٹ لیں۔ میں ان کی مجبوری سمجھتا ہوں وہ بھی بے گھر اور ضرورت مند ہوتے ہیں مگر ہماری ڈیوٹی ہے کہ ہم مقررہ جگہ سامان پہنچائیں۔ ۔۔حفاظت کے ساتھ!"

خچروں کے ذریعے سامان کی ترسیل

انٹرنیشنل آرگنائزیشن فور مائیگریشن کے عہدیدار کرس ٹام کا کہنا ہے :"ضرورتمندوں تک پہنچنا نہایت مشکل کام ہے۔ ایسے حالات میں جبکہ سڑکیں ٹوٹ چکی ہوں اورپل پانی میں بہہ چکے ہوں۔ آپ کے پاس طلب گاروں تک پہنچنے کے ذرائع محدود ہوجاتے ہیں"

دور افتارہ پہاڑی علاقوں مثلا ًسوات اور شانگلہ جیسے علاقوں میں پھنسے ہوئے لوگوں تک امدادپہنچانا سب سے زیادہ مشکل امر ہے۔ یہ سارا کا سارا پہاڑی علاقہ ہے اور لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے سڑکیں بندہوجاتی ہیں ۔ ایسے میں ٹرکوں یا کسی اور گاڑی کا وہاں سے گزر ہوہی نہیں سکتا لہٰذا فوج اور دیگر غیر سرکاری تنظیموں کو گدھوں اور خچروں پر سامان لاد کر سیلاب زدہ علاقوں میں سفر کرنا پڑتاہے ۔

طلب گار ہاتھوں تک امداد کی رسائی میں تاخیرکے اسباب

طلب گار ہاتھوں تک امداد کی رسائی میں تاخیرکے اسباب

ایک خچر زیادہ سے زیادہ 38 کلو سامان خوردو نوش لے جاسکتاہے۔ اس کامطلب ہے کہ ایک سو ٹن سامان پہنچانے کے لئے دو ہزار چھ سو بتیس خچروں کی ضرورت ہوگی۔اتنی بڑی تعداد میں خچروں کی فراہمی اپنے آپ میں ایک مشکل امر تو ہے ہی دوسرے خچروں کو سو کلو میٹر کا سفر طے کرنے کے لئے دو دن درکار ہوتے ہیں ۔ سو کلو میٹر تک سو ٹن سامان پہنچانے پر پانچ ہزار امریکی ڈالر یا چار لاکھ تیس ہزار روپے خرچ ہوتے ہیں۔

اکثر اوقات خچروں کو کرائے پر حاصل کرنا پڑتا ہے۔سوات کے خچرمالکان میں سے ایک علی حسن کا کہنا ہے "میرے خچروں میں سے ایک خچر بہت زیادہ چلنے اور کام کے بوجھ کی وجہ سے مر گیا"

کچھ اور خچر مالکان کا کہنا تھا "ہمارے بہت سے خچر مٹی کے تودے گرنے کے سبب تنگ ہوجانے والے راستوں پر پھسل کر مرگئے۔ جانوروں کو ہاکنا اور ان کے ساتھ مسلسل چلتے رہنا بہت محنت طلب کام ہے ۔ لیکن ہمیں معلوم ہے کہ یہ کام لوگوں تک سامان پہنچانے سے زیادہ اہم نہیں"

ہیلی کاپٹرز کے ذریعے سامان کی ترسیل

سیلاب سے متاثرہ بعض علاقے ایسے بھی ہیں جہاں نہ خچر جاسکتے ہیں اور نہ ٹرک۔ یہاں تک رسائی کے لئے صرف ہیلی کاپٹرزہی استعمال میں لائے جاتے ہیں۔ ورلڈ فوڈ پروگرام کے ترجمان مارکس پرائر کے مطابق اس وقت تقریباً آٹھ لاکھ افراد ایسے علاقوں میں پھنسے ہوئے ہیں جہاں صرف ہیلی کاپٹر ہی جاسکتا ہے کیوں کہ وہاں سڑکیں اور پل ٹوٹ چکے ہیں جنہیں دوبارہ بننے میں ہفتوں یا پھر مہینوں لگ سکتے ہیں"

ایک فوجی ہیلی کاپٹر میں زیادہ سے زیادہ ساڑھے تین ٹن سامان آسکتا ہے۔اس طرح سو ٹن سامان پہنچانے کے لئے کل 30 ہیلی کاپٹرز درکار ہوں گے جبکہ سو کلومیٹر تک سفر کرنے کے لئے نصف گھنٹہ درکار ہوگا۔اس طرح آٹھ ہیلی کاپٹر سے سو ٹن سامان پہنچانے کے لئے پورا ایک دن چاہئے ہوگا۔ اس میں تین لاکھ ساٹھ ہزار امریکی ڈالر یعنی تین کروڑ چھیانوے لاکھ روپے خرچ ہوں گے۔سامان زیادہ ہوتو پھر اسی حساب سے اخراجات بھی بڑھ جائیں گے۔ ظاہر سی بات ہے کہ جس ملک میں بڑے پیمانے پر تباہی ہووہاں کی حکومتیں تن تنہا ان بڑی رقم کا فوری انتظام نہیں کرسکتیں جتنی بڑی تعداد میں رقم اور امدادی سامان درکار ہوتا ہے۔ ایسی صورت میں عطیات اور امدادی سامان ملک تک اور پھر ملک سے ضرورت مندوں تک پہنچنے میں خاصا وقت صرف ہوجاتا ہے ۔

طلب گار ہاتھوں تک امداد کی رسائی میں تاخیرکے اسباب

طلب گار ہاتھوں تک امداد کی رسائی میں تاخیرکے اسباب

سیلاب زدہ علاقوں میں لوگ ہیلی کاپٹر زکو دیکھتے ہی اس کی طرف دوڑتے ہیں ۔ یہ ہیلی کاپٹرز ان کی ٹوٹتی ہوئی امیدوں کو پھر سے روشن کردیتے ہیں۔ فوجی ہیلی کاپٹر ز کا مطلب لوگوں کی جان بچانے اور عام ہیلی کاپٹرز کا مطلب غذائی اور دیگر امدادی سامان کا پہنچنا ہے مگر ایسا لازم نہیں ہے کہ فوجی ہیلی کاپٹرز صرف ریسکو آپریشن ہی کے لئے استعمال ہوتے ہیں ۔بلکہ ان سے دونوں کام لئے جاتے ہیں۔

ہیلی کاپٹرز پر چونکہ بہت زیادہ خر چہ آتا ہے لہٰذا صرف ایسے علاقوں میں ہی ہیلی کاپٹرز استعمال ہوتے ہیں جہاں دوسرے طریقوں سے سامان رسد پہنچانا ممکن نہ ہو ورنہ عام طور پر یہ کام ٹرکوں سے ہی لیا جاتا ہے۔

XS
SM
MD
LG